30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم اکثرواذکراﷲ حتی یقولوا مجنون رواہ الامام احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم و صححاہ عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ، و ربما غلب الولہ علی اھل اﷲ تعالٰی والوجد حتی یغیبوا من وجودھم فتبدوا منھم احوال وافعال لو صدرت عن مشاھد الفعل لحکموا علیہ انہ خرج عن حد العقل کالرقص والدوران وتخریق الاثواب وھی حالۃ شریفۃ علامۃ صحتھا ان تحفظ علٰی صاحبھا اوقات الصلٰوات وسائرالفرائض فترد علیھم فیھا عقولھم وھذا حال جماعۃ من اولیاء اﷲ تعالٰی منھم الشبلی وابوالحسن النوری وسمنون المحب و سعدون المجنون وامثالھم، روی ابونعیم فی الحلیۃ عن یحیی بن معاذ الرازی انہ سئل عن الرقص فانشد یقول ؎ دققنا الارض بالرقص علی لطف معانیکا |
کثرت سے اﷲ تعالٰی کا ذکرکیا کرو یہاں تك کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔امام احمد،ابویعلٰی،ابن حبان اور حاکم نے اس کو روایت کیا اور آخری دونے اس کو صحیح قراردیا۔اور حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حواٰلہ سے اس کو روایت کیاگیا۔اور بعض اوقات"اہل اﷲ"پرحیرت اوروجد کی کیفیت غالب ہوتی ہے یہاں تك کہ وہ اپنے وجود سے غائب ہوجاتے ہیں یااپنا وجود کھوبیٹھتے ہیں تو ان سے ایسے حالات ظاہرہوتے ہیں اگرشاہد فعل سے صادرہوتے تو اس پرحکم لگاتے کہ یہ حدعقل سے خارج ہے جیسے ناچنا،گھومنا اور کپڑے پھاڑ ڈالنا۔اور یہ ایك شریف حالت ہے اور اس کی صحت کی علامت یہ ہے کہ صاحب حالت پراوقات نمازاوردیگر فرائض محفوظ ہوتے ہیں پھر اس حالت میں ان کی عقلیں لوٹادی جاتی ہیں اور یہ حال اولیاء اﷲ کی ایك جماعت کاہے ان میں سے خواجہ شبلی،ابوالحسن نوری،سمنون محب،سعدون مجنون اور ان جیسے دیگراکابرین امت ہیں، چنانچہ محدث ابونعیم نے الحلیہ میں یحیٰی بن معاذ رازی سے روایت کی ہے کہ ان سے ناچ کے بارے میں پوچھاگیاتو وہ یہ کہنے لگے:ہم نے ناچ سے زمین کو روندا اورپامال کیا(یہ سب کچھ)تیرے معانی سے لطف اندوزہونے کے لئے کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع