30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ممانعت شرعاً ثابت ہوگی تو وہ بیشک ممنوع ہوگا۔امام ابن حجر مکی جو ہر منظم میں فرماتے ہیں:
|
تعظیم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امرمستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم انتھی[1]۔ سواء ورد الشرع بخصوصہ اولم یرد ذٰلک لان مطلق التعظیم وماحث علیہ والیہ فلیعم کل مایسمّٰی باسمہ۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جس سے الوہیۃ الٰہ میں شرکت لازم نہ آئے ہرطرح امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیک جن کی آنکھیں اﷲ تعالٰی نے روشن کی ہیں انتہی۔خواہ شریعت کاورود خاص اس امر میں ہو یانہ ہو یہ اس لئے کہ مطلق تعظیم جس کی طرف اور جس پر متوجہ کی گئی تو اسم کے ہرمسمّٰی کوشامل ہوسکے۔(ت) |
جن کی آنکھوں میں اﷲ تعالٰی نے نوربصارت بخشاہے ان کے نزدیک یہ قیام بوقت ذکرولادت شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم محض بنظرتعظیم واکرام حضوراقدس بجالاتے ہیں بیشک حسن ومحمود ہے تاوقتیکہ منکرین خاص اس صورت کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت نہ کریں اور ان شاء اﷲ تاقیامت اس کی ممانعت ثابت نہ کرسکیں گے۔
رہایہ کہ قیام ذکر ولادت شریف ہی کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اور واضح ہے۔
اوّلاً: صدہاسال سے علمائے کرام اوربلاداسلام میں یونہی معمول ہے۔
ثانیاً: ائمہ دین کی تصریح ہے کہ ذکرپاک صاحب لولاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعطیم مثل ذات اقدس کے ہے اور صورت تعظیم میں سے ایک صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت حضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عالم دنیا میں تشریف آوری کاذکرہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی۔
ثالثاً: وقت ولادت شریف حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ملائکہ تعظیم کے واسطے کھڑے ہوئے تھے شرف الانام تصنیف علامہ شیخ قاسم بخاری میں یہ روایت موجود ہے اس لئے ہم بھی جب ذکرولادت شریف کرتے ہیں تو ان ملائکہ کاتشکل پیداکرتے ہیں کیونکہ محدثین کے نزدیک واقعہ مرویہ کی صورت اور تشکل پیداکرنا مستحب ہے چنانچہ بخاری شریف کے صفحہ تین میں روایت ہے کہ وقت نزول وحی رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ دل میں پڑھتے اور لبوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع