30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتا کہ حضرت سرورکائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یادوتعریف بعینہٖ خدا کی یاد ہے،پس حکم اطلاق جس جس طریقہ سے آپ کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی ایسا ہی قیام بوقت ذکر ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،اوّلاً،اس کے جواز ثابت کرنے میں ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ کل اشیاء میں حلّت ہے،جو کوئی عدم جواز کادعوٰی کرے اس پر دلیل وبینہ ہے،ہمارے لئے صرف اتناہی کافی ہے کہ عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں۔حدیث شریف میں ہے:
|
الحلال مااحلّ اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مماعفاعنہ[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے جواپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جوحرام فرمادیا وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیارکیاوہ معاف ہے(ت) |
ہاں ہم قیام کے مستحسن ہونے کاثبوت بھی دیتے ہیں،نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمانوں کا عین ایمان ہے اور اس کی خوبی وتعریف قرآن عظیم سے مطلقًا ثابت ہے۔ قال اﷲ تعالٰی:
|
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شٰہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ﴿۸﴾ لِّتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ "[2] |
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اورخوشی اور ڈرسناتا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پرایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیرکرو۔(ت) |
وقال اﷲ تعالٰی:
|
" وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾ "[3] |
اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت) |
وقال اﷲ تعالٰی:
|
" وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ "[4] |
اور جو اﷲ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلاہے(ت) |
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقہ سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اور خاص طریقوں کے لئے جداگانہ ثبوت کی ضرورت نہ ہوگی،ہاں اگر کسی طریقہ کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع