30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)وہ شخص جو اس عذرباد وباطل سے اس فرض کو منع کرتاہے یاسخت سفیہ جاہل ہے یادرپردہ ان کفارواشقیا کا ممدومعاون۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ شق ثانی ہو تو اس سے مطلقًا قطع تعلق کریں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم[1]۔ |
ان سے دوربھاگو ان کو اپنے سے دور کرو کہیں تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔ |
اور شق اول ہو تو اسے سمجھائیں کہ پرانی خباثت کے سبب ہم اپنافرض کیونکر چھوڑسکتے ہیں۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ"[2]۔ |
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو جو بھٹک گیا وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔(ت) |
تو علماء فرماتے ہیں کہ:
|
لاتترک سنۃ لاقترانھا مع بدعۃ من غیرہ۔ |
کسی ایسی سنت کو نہ چھوڑا جائے جو کسی دوسرے کی بدعت کے ساتھ مخلوط ہو۔(ت) |
نہ کہ ایسے مہمل خیال پرا س درجہ اہم فرض کو چھوڑنا اور پھر نتیجہ یہ کہ ان کی خباثتیں فاش وآشکار ہوں اور ادھر سے جواب نہ ہو اور عوام ان کے شکار ہوں آج وہ دل میں برا کہتے ہیں کل سیکڑوں کو علانیہ برا کہنے والا بنالیں،ایسی اوندھی مت کاکیاٹھکانہ ہے، یوں تواذان بھی حرام ہوجائے گی کہ دور سے سن کر بھی اعداء دین کے کلیجے شق ہوتے ہیں اورخفیہ جو منہ پر آتاہے بکتے ہیں،اگر یہ جاہل سمجھ جائے فبہا ورنہ معلوم ہوگا کہ جاہل نہیں معاند ہے اس سے بھی قطع تعلق لازم ہوگا۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[3] |
اگر شیطان تمہیں کسی بھلاوے میں ڈال دے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع