30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنائے تاکہ روافض سے مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ صرف شہادت حسین علیہ السلام پراکتفاکرتے جبکہ اہل سنت صحابہ اور اہلبیت دونوں کاتذکرہ کرتے ہیں۔(ت)ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:
|
اذا ذکر الصالحون فحیھلا بعمر[1]۔ |
جب صالحین کاذکر ہوتو عمرفاروق(رضی اﷲ عنہ)کاتذکرہ کرو(ت) |
اور ذکرشہادت میں حضرت ابوبکروعمروعثمان اولادِ امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کاذکراس لئے ترک کرنا کہ ان کے اسماء حضرات عالیہ خلفائے ثلاثہ رضی اﷲ عنہم کے نام پاک ہیں،صریح رفض واوہام زمانہ روافض خذلہم اﷲ کا اتباع ہے کہ مسمی کے باعث اسم سے عداوت ہاتھ باندھ لیتے ہیں اگرچہ وہ نام کسی محبوب کاہو " قٰتَلَہُمُ اللہُ ۚ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾[2] (اﷲ تعالٰی انہیں مارے کہ وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) اسی لئے یہ بے پِیرے دوشنبہ کوپِیر کہنے سے احترازکرتے ہیں مسجد کے تین درنہ بنائیں گے کہ خلفائے ثلٰثہ کاعدد ہے ایسے ہی اوہام پر تو امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
|
الشیعۃ نساء ھذہ الامّۃ۔ |
رافضی اس امت کی مادہ ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(۲)ضرور واجب بلکہ اہم فرائض سے ہے،حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا سب فـــــــ اصحابی وظھرت الفتن اوقال البدع ولم یظھر العالم علمہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا وعدلا[3]۔ |
جب میرے صحابہ کوبراکہاجائے اور فتنے یافرمایا بدعتیں ظاہر ہوں اس وقت عالم اپنا علم ظاہر نہ کرے تو اس پراﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔ |
[1] مسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۴۸
[2] القرآن ۹/ ۳۰
[3] کنزالعمال حدیث ۳۲۵۴۵ ۱۱/ ۵۴۳ وفیض القدیر بحوالہ الدیلمی تحت حدیث ۷۵۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۰۲،الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۱۲۷۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۲۱
فـــــــ:حدیث کے یہ الفاظ دوحدیثوں کامجموعہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ کتب احادیث میں ان الفاظ کامجموعہ کسی جگہ نہیں مل سکا۔نذیراحمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع