30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گوناگوں کو ان چھوکروں کے سور سے اپنی سورملاکر اس طور پڑھتے کہ مجال کیا ہے کسی کو جو اس میں اور رنڈیوں کے گانے میں کچھ بھی فرق سمجھے مگرسامعین میں سے اکثر توایسے ہیں کہ فارسی واردو توبالکل نہیں سمجھتے مجردوزن اور آوازہی پرفریفتہ و مفتون ہوکر سماعت کرتے ہیں اور گاہ بگاہ عبارت منثورہ سے اپنی زبان میں سمجھادیتے ہیں وہ بھی اکثر بے اصل ہے اس طور پر پڑھناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ایسا پڑھنا ممنوع ہے،یہ پڑھنا نہیں گانا ہے اور امرد کے گانے میں فتنہ ہے،اور فتنے کا بند کرنا واجب۔
|
فی ردالمحتار عن التاتارخانیہ عن العیون،سماع غناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن اللھو وتحلی بالتقوی واحتاج الٰی ذلک احتیاج المریض الی الدواء ولہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد[1] الخ ملخصاً وفی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن نصاب الاحتساب التغنی واستماع الغناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن الھوی ولہ شرائط ان لایکون فیھم امرد ولامرأۃ [2] الخ ملتقطا۔ |
فتاوٰی شامی میں بحوالہ تاتارخانیہ"العیون"سے روایت ہے کہ گانا سنناحرام غذاہے پس جس کسی نے اسے مباح قراردیا تویہ اس کے لئے اس صورت میں ہے کہ کھیل وغیرہ سے خالی ہو اور زیور تقوٰی سے آراستہ ہو اور اسے اس کی طرف کچھ اس طرح کی احتیاج اور ضرورت ہو جس طرح مریض کو دوا کی احتیاج ہوتی ہے اور اس کے لئے چھ شرائط ہیں،ایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکاشریک نہ ہو الخ ملخصا،اور فتاوٰی خیریہ میں تتارخانیہ کے حوالہ سے نصاب الاحتساب سے منقول ہے کہ گانا گانا اور سنناحرام ہے اور جس نے سے مباح کہا تو یہ اس کے لئے ہے جو نفسانی خواہش سے خالی ہو،اور اس کے جواز کی چھ شرائط ہیں،ایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکا اور کوئی عورت شریک نہ ہو اھ ملتقطًا(ت) |
یوہیں بے اصل وباطل روایات کا پڑھنا سننا حرام وگناہ ہے،نص علیہ علماء القدیم والحدیث فی کتب الفقہ واصول الحدیث(چنانچہ قدیم علماء کرام نے فقہ اور اصول حدیث کی کتابوں میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع