30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رسالۃ کافیۃ شافیۃ باذن اﷲ تعالٰی سمیناھا"اقامۃ القیامۃ علٰی طاعن القیام لنبی تھامۃ"صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
ایک رسالہ بنام"اقامۃ القیامۃ علٰی طاعن القیام لنبی تھامۃ"صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(اس شخص پرقیامت برپا کر دینا جو نبی تہامہ کے لئے قیام تعظیم پرزبان طعن دراز کرے)لکھاہے،یہ اﷲ تعالٰی کے حکم سے اپنے موضوع پرکافی اور بیمار ذہنوں کو شفابخشنے والاہے۔(ت) |
یوں ترک ہوکہ چندلوگ بیٹھے ہیں ذکرولادت اقدس آیا تعظیم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے انکار نہیں مگر اس وقت بیٹھے رہے کہ آخرقیام واجب نہیں ایسے ترک پرطعن نیں،اور اگریوں ترک ہو کہ مجلس میں اہل اسلام نے اپنے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے قیام کیا یہ بلاعذرجما رہا تو قطعاً محل طعن و دلیل مرض قلب ہے،نظیر اس کی شاہد عین یہ ہے کہ کسی مجمع میں بندگان سلطانی تعظیم سلطانی کیلئے سروقد کھڑے ہوں اور ایک نامہذّب بے ادب قصداً بیٹھارہے ہرشخص اسے گستاخ کہے گا اور بادشاہ کے عتاب کا مستحق ہوگا یوں ہی اگر ترک قیام بربنائے اصول باطلہ وہابیت ہوتوشنیع ترہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۶۸: ازکانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرصت مرسلہ محمد سہول ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام اے علماء کرام! تمہارا کیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد کے وقت جیسا کہ آج کل قیام کرتےہیں یہ جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
قیام وقت ذکرولادت حضورسیدالانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام مستحب ومقبول ائمہ کرام وعلماء اعلام ورائج ومعمول حرمین طیبین وجملہ بلاد دارالاسلام ہے شرع مطہر سے اس کے منع پراصلاً دلیل نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان اس مسئلہ کی تفصیل جلیل کتاب مستطاب اذاقۃ الاٰثام لما نعی عمل المولد والقیام(ان لوگوں کے گناہ جومیلاد اور قیام سے روکنے والے ہیں۔ ت)تصنیف لطیف حضرت ختام المحققین امام المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد ورسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تہامۃ تالیف فقیرنحیف ودیگر کتب ورسائل علماء وافاضل میں ہے،علامہ سیدجعفربرزنجی مدنی قدس سرہ السنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:
|
قد استحسن القیام عند ذکر ولادتہ الشریفۃ ائمۃ ذو روایۃ و رؤیۃ فطوبٰی لمن کان تعظیمہ |
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذکرولادت شریف کے وقت کھڑا ہونے کوائمہ روایت ودرایت نے مستحسن قراردیا ہے لہٰذا اس خوش نصیب کیلئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع