30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲دوسرا امرناجائز اس مجلس میں یہ تھا کہ عام سڑک پرخصوصاً بازار میں جہاں آمدورفت کی زیادہ کثرت رہتی ہے فرش کرکے کتاب پڑھنا کہ یہ حقوق عامہ میں دست اندازی ہوئی شریعت میں تو اسی لحاظ سے راستہ میں نماز پڑھنی بھی مکروہ ہوئی نہ کہ بازار کی سڑک پر مجلس۔درمختار وردالمحتار میں ہے:
|
تکرہ الصلٰوۃ فی طریق لان فیہ شغلہ بمالیس لہ لانھا حق العامۃ للمرور[1] ۱ھ مختصراً۔ |
راستے میں نمازپڑھنا مکروہ ہے کیونکہ راستہ اس کام کے لئے نہیں لہٰذا اس کام کاکرنا لوگوں کے گزرنے کے حق کو متاثر کرتاہے ۱ھ مختصراً(ت) |
۳تیسری سخت بیہودہ بات کتاب وقاری کا نیچے اور کافروں کاچھجّوں پرہونا کہ سخت بے تعظیمی کتاب وذکر شریف تھی، حضوراقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توجب حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اپنا ذکرشریف سنتے تومسجد اقدس میں ان کے لئے منبربچھاتے وہ اس پرکھڑے ہوکر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت ومدحت اور حضور کے دشمنوں بدگویوں کی مذمت بیان کرتے کمارواہ الامام البخاری فی صحیحہ(جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیاہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ کتاب نیچے اور کافر اونچے ہوں۔
۴زید نے جواپنی مجلس خوانی خصوصاً راگ سے پڑھنے کی اُجرت مقرررکھی ہے ناجائزوحرام ہے اس کا لینا اسے ہرگزجائز نہیں اس کاکھاناصراحۃً حرام کھاناہے اس پرواجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپس دے،وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرے،پتانہ چلے تو اتنامال فقیروں پر تصدّق کرے،اور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے توگناہ سے پاک ہو۔ اول تو سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرپاک خود عمدہ طاعات واجل عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پرفیس لینی حرام،مبسوط پھر خلاصہ پھر عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز الاستیجار علی الطاعات کالتذکیر ولایجب الاجر[2]۱ھ ملخصاً۔ |
نیک کاموں میں اجرت لیناجائزنہیں،جیسے وعظ کرنا۔اور اجرت واجب نہیں ہوگی ۱ھ ملخصاً(ت) |
خلاصہ پھرتتارخانیہ پھرہندیہ میں ہے:
|
الواعظ اذا سأل الناس شیئا فی |
جب وعظ کرنے والا مجلس میں اپنے لئے کچھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع