30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹھ کر وعظ پڑھتاہے اور پیرامریدی بھی کرتاہے اور وقت ختم ہونے مولود شریف کے اعلان بآوازبلند اسی زید مولود خواں نے کہا کہ دیکھو ان اہل ہنود صاحبوں کی امداد اور شرکت سے میرے یہاں پر کیسی رونق روشنی وغیرہ کی تم مسلمانوں سے دس حصہ اور بیس حصہ زائد ہوئی۔لہٰذا اب اس معاملہ میں استفتاء شرعی جوکچھ ہو وہ مشرح ہرفقرہ کاجواب تحریر فرمائیں۔جملہ اہل اسلام کوہ نینی تال چھوٹابازار۔
الجواب:
۱سائلین کے بیان سابق سے واضح ہوا کہ یہ چندہ ہندؤوں نے خود نہ کیا بلکہ زید میلادخواں نے مجلس کی اورمسلمانوں سے برخلاف ہوکرہندؤوں سے چندہ لیا اور ان کی امداد سے یہ کام کیا یہ سراپا خلاف شرع ہوا،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
انا لانستعین بمشرک۔اخرجہ احمد وابوداؤد[1] و ابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسندصحیح۔ |
ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(اس کو صحیح سند کے ساتھ امام احمد،ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔ت) |
علمائے کرام تو اموردین میں کافر کتابی سے اتنی مددلینی بھی مکروہ رکھتے ہیں کہ اپنی قربانی ذبح کرنے کو اس سے کہے حالانکہ وہ ایک کام خدمت لینا ہے نہ کہ معاذاﷲ دینی بات کے لئے مشرکوں سے مانگنا،دینی کام کادارومدار سب انہیں کی اجازت پرہونا اسے کوئی سچامسلمان کامل الایمان گوارانہیں کرسکتا۔تنویرالابصار وردّالمحتار وغیرہما میں ہے:
|
کرہ ذبح الکتابی ای بالامر لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امورالدین [2]الخ۔ |
کسی مسلمان کے حکم دینے سے کتابی کا قربانی کے جانورکوذبح کرنامکروہ ہے اس لئے کہ وہ قربت ہے یعنی تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ دینی کاموں میں کسی کافر سے مدد لی جائے۔الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع