30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاکل فقیل لھا فی ذٰلك فقالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انزلوا الناس منازلھم[1]۔ |
بٹھاکر کھاناکھلایا پھر آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب سلوك کیاکرو(ت) |
امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
|
لایقصّر بالرجل العالی القدر عن درجتہ ولایرفع متضع القدر فی العلم فوق منزلتہ و یعطی کل ذی حق فیہ حقہ وینزّل منزلتہ وقد ذکر عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انھا قالت امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم[2]۔ |
بلند مرتبہ شخص کی حسب مرتبہ عزت وقدر ہونی چاہئے اس کی توقیر کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور پست درجہ والے کو اس کی حیثیت سے بڑھانا بھی مناسب نہیں ا س سلسلے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حوالے سے ذکرکیاگیاہے کہ آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوك کیاکریں۔(ت) |
ہاں علماء وسادات کو یہ ناجائزوممنوع ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے امتیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑاجانیں کہ یہ تکبرہے اور تکبر ملك جبار جلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیں،بندہ کے حق میں گناہ اکبرہے،
" اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾ "[3]کیا جہنم میں نہیں ہے ٹھکانا تکبروالوں کا۔ جب سب علما کے آقا سب سادات کے باپ حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انتہادرجہ کی تواضع فرماتے اور مقام ومجلس وخورش وروش کسی امر میں اپنے بندگان بارگارہ پراختیار نہ چاہتے تو دوسرے کی کیاحقیقت ہے مگرمسلمانوں کویہی حکم ہے کہ سب سے زائد علماوسادات کااعزاز وامتیاز کریں یہ ایسا ہے کہ کسی شخص کولوگوں سے اپنے لئے طالب قیام ہونا مکروہ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع