30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۳۶۴: ازملك آسام ضلع گوہتی مرسلہ محمد طیب اﷲ ۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سیدوعالم ایساہے کہ تمام شہر کااستاد ہے اور فتوے وفرائض وامامت عیدگاہ اور جنازہ وغیرہ کاکام اسی سے ہوتاہے۔اگرکوئی ضیافت میں اکرامًا یاامتیازًا ایك ہی دسترخوان پر ان کو برتن میں اور مہمان کو پتے میں کھلائیں توشرعًا یہ درست ہے یانادرست؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
بلاشبہہ جائزہے،علماء سادات کو رب العزت عزوجل نے اعزازوامتیاز بخشاتو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام امرشرع کاامتثال اور صاحب حق کو اس کے حق کا ایفاہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ[1]۔ |
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا)تو فرماکیا برابرہوجائیں گے عالم اور جاہل۔ |
جب اﷲ جل وعلاہی نے علماء وجہلاء کو برابر نہ رکھا تومسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازم،اسی باب سے ہے علمائے دین کومجالس میں صدرمقام ومسنداکرام پر جگہ دینا کہ سلفًا وخلفًا شائع وذائع اور شرعًا وعرفًا مندوب ومطلوب۔ام المومنین صدیقہ صلی اﷲ تعالٰی علی بعلہا الکریم وعلیہا وسلم کی خدمت اقدس میں ایك سائل کاگزرہوا اسے ایك ٹکڑا عطافرمادیا ایك شخص خوش لباس شاندار گزرا اسے بٹھاکر کھاناکھلایا اس بارہ میں ام المومنین سے استفسار ہوا،فرمایا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہرشخص سے اس کے مرتبہ کے لائق برتاؤ کرو۔دیکھو یہ تفرقہ برتن اور پتّے کے فرق سے کہیں زائدہے اور عالم وجاہل وسید وغیرسید کاامتیاز سائل وخوش لباس کے امتیاز سے کہیں بڑھ کر۔
|
ابوداؤد فی سننہ عن میمون بن ابی شبیب ان عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا مرّبھا رجل علیہ ثیاب وھیأۃ فاقعدتہ |
امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت میمون بن ابی شبیب سے روایت کی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس سے ایك شخص عمدہ لباس پہنے ہوئے گزرا تو آپ نے اسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع