30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور عالم دین سے بلاوجہ بغض رکھنے میں بھی خوف کفرہے اگرچہ اہانت نہ کرے۔فتاوٰی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
|
من ابغض عالما بغیر وجہ ظاھر خیف علیہ الکفر[1]۔ |
جس نے کسی عالم سے بغیر کسی وجہ ظاہر کے دشمنی رکھی تو اس پرکفر کا اندیشہ ہے۔(ت) |
عالموں کے پیچھے نمازپڑھنے سے منع کرنا اور جاہلوں کوامام بنانا حکم شریعت کابدلنا ہے۔غرض ایسے لوگ شیطان کے مسخرے ہیں مسلمانوں پرفرض ہے کہ ان سے دور رہیں اور جو ان کی مدد کرتے ہیں وہ انہیں کے مثل ہیں۔حدیث میں ہے:
|
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام[2]۔والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جودانستہ ظالم کی مدددینے چلے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔ |
مسئلہ۳۵۹،۳۶۰: ازگورکھپور محلہ دھمال مسئولہ سعیدالدین ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)عالم کایہ کہہ دینا کہ میں نے مسئلہ صحیح بیان کیاتھا یاغلط مجھ کو یادنہیں ہے دوسرے سے پوچھ لو،درست ہے یانہیں؟
(۲)کسی عالم سے پوچھا کہ آپ صحیح وغلط بھی بیان کرتے ہیں اوراس پر اس کاجواب دینا کہ ہاں،درست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)صرف درست نہیں بلکہ واجب ہے اگر اس کو اپنے بیان میں شك ہوگیا ہو اور خود اس کی تنقیح نہ کرسکتاہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ مجھ سے کبھی خطا بھی ہوجاتی ہے تودرست ہے اور اگریہ مراد کہ کبھی قصدًا مسئلہ غلط بیان کردیتا ہے توسخت فسق کااقرار ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع