30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
ایں چنیں استاد رابرشاگرد خود ہماں حق است کہ برملٰئکہ ابلیس لعین راکہ اورالعنت مے کنند وروزقیامت کشاں کشاں بدوزخ افگنند۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس قسم کے استاد کا اپنے شاگرد پروہی حق ہے جو شیطان لعین کا فرشتوں پرہے کہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور قیامت کے دن گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینك دیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۴۴: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام مورخہ ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
|
سوال دیگربرادرمن مرا تعلیم کردہ وبرمن ظلم وستم بیحد کردہ درمال دنیاوی ومن بااوگفتگو بسیار کردہ ام دریں باب ایں حق داراست یانہ ونزدشرع ملامت ست یانہ؟ |
دوسراسوال:میرے بھائی نے مجھے تعلیم دی لیکن اس نے دنیوی مال کے معاملہ میں مجھ پر بیحد ظلم وستم کیا،پھر میں نے اس سے بہت سی باتیں کیں اس باب میں یہ حقدار ہے یانہیں؟ |
الجواب:
|
برادرِکلاں رادرحدیث بشابہ پدر شمردہ اند خاصہ کہ استاذ باشد استاذ علم دین خود اعظم از پدرست برائے مال با اوناحفاظتی نمی شاید کرد باینہمہ اگردرگفتگو تجاوز ازحدنہ کردہ ست بزہ کارنیست وبوجہ عدم رعایت حق استاذ وبرادرکلاں خالی از ملامتی ہم نیست۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بڑے بھائی کو حدیث پاك میں والد کے مشابہ شمارکیاہے جبکہ وہ استاذ بھی ہو۔علم دین کا استاذ(مرتبہ میں)والد سے بہت بڑا ہے۔لہٰذادنیاوی مال کی وجہ سے اس کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے تھی،اور ان سب باتوں کے باوجود اگرکلام کرنے میں حد سے تجاوز نہیں کیاتوگنہگار نہیں۔پس استاذ اوربڑے بھائی کے حق کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ملامت سے خالی بھی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۴۵:ازریاست جموں کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمدیوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگرکوئی صاحب اہل علم ہوکراپنے استاد مربی کا انکار کرے کہ ہمارا کوئی استادنہیں باوجودیکہ گواہ موجود ہوں،تو اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
استاد کاانکار کفران نعمت ہے،اور کفران نعمت موجب سزاوعقوبت،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع