30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح(کیونکہ مفاسد کادفاع مصالح کے حصول سے زیادہ ضرور کرے۔ت)اور اگر محض وہم ہے تومعتبرنہیں ہے اور اگرمتوسط حالت ہے تو علم ضروری سے نہیں روك سکتا اور زائد میں نظر مختلف ہے اور معیار موازنہ مفسدہ ومصلحت ہے کماھو قانون الشرع والعقل فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق(جیسا کہ شرعی اور عقلی قانون کا تقاضا ہے پس توفیق حاصل ہونی چاہئے اور اﷲ تعالٰی کے کرم سے ہی حصول توفیق ہے۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۰: ازبریلی محلہ سوداگری مسئولہ محمدحسین طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۷شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید نے عمروکو علم طب سکھایا اور عمرو نے زید کو علم حساب سکھایا مرتبہ استاد اورشاگرد ہونے میں دونوں برابرہیں یاکسی کو ایك دوسرے پرافضلیت ہے؟
الجواب:
جمع تفریق ضرب تقسیم جس قدر پرعلم فرائض کاتوقف ہے طب سے افضل ہے باقی حساب میں توغل سے طب افضل ہے جس نے افضل سکھایا وہ افضل استاد ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۴۱: ازبریلی مدرسہ اہلسنت مولوی شفیع احمدصاحب طالب علم مدرسہ ساکن بیلپور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے ماں باپ اگرتحصیل علم فرض سے منع کریں تو اس میں ان کی تعمیل حکم ہرگزنہیں چاہئے اور اگر ان کی قربت میں تحصیل نہ ہوسکے توسفرکرناضرور ہے اگرچہ ماں باپ کو اس کی خدمت کی طرف احتیاج ہو تو یہ قول زید صحیح ہے یانہیں؟ بیّنوابالتفصیل ولوکان القلیل توجروامن رب الجلیل(کسی قدر تفصیل سے بیان فرماؤ اگرچہ تھوڑی ہو،اور جلیل القدر پروردگار سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
قول زید صحیح ہے مطلقًا جبکہ اس علم کی تحصیل چاہتا ہو جو فرض عین ہے یونہی صحیح ہے اگربقدر فرض عین جانتاہو اور فرض کفایہ کی تحصیل چاہے اور وہاں میسرنہ ہو اور اس کے سفر کرنے میں والدین کاضائع چھوڑنا نہ ہو اور اگر ان کی اضاعت لازم آئے تو فرض عین کے بعد کفایہ کے لئے اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ان کا ضائع نہ چھوڑنا اس پرفرض عین ہے ضائع چھوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پرقادر ہیں یہی کماتاہے اور انہیں کھلاتاہے اور اگر تحصیل کفایہ میں مشغول ہوگا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع