30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذا فی المحیط[1] اھ باختصار،ورأیتنی کتبت علی قولہ، لایخرج بغیر اذنھما مانصہ اقول:ای حقیقۃ فانہ لا یکون الا اذا کانت عندھما کفایۃ ولومن قبل غیرھما اما اذا استأذن وھو یعلم ان لاکفاف لھما دونہ فقالاغضباسرعلی برکۃ اﷲ تعالٰی فھذا لیس من الاذن فی شیئ وان فرض فلامعتبر بہ لان اضاعتھما حرام والحرام لایحل باذن احد۔ |
اس سفرمیں ہلاکت کاخطرہ نہ ہو تو پھر یہ سفر سفرتجارت کی طرح ہے۔اور اگرہلاکت کاخوف ہو توپھر بمنزلہ سفرجہاد ہے۔ محیط میں اسی طرح مذکور ہےاھ باختصار۔تونے دیکھا کہ میں نے اس کے قول"لایخرج بغیر اذنھما"وہی کچھ لکھاکہ جس کی اس نے تصریح کی اقول:(میں کہتاہوں) یہاں "اذن"سے مراد حقیقتًا اذن ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتاہے جبکہ ان دونوں(والدین)کے پاس بقدرکفایت مال ہو اگرچہ کسی دوسرے کی طرف سے مہیا ہو۔لیکن اگریہ اُن سے اجازت مانگے جبکہ یہ جانتاہے کہ اس کے بغیر ان کے بقدر ضرورت(کفاف)مال نہیں اور وہ غضبناك لہجے میں کہہ دیں اﷲ تعالٰی کی برکت کے پیش نظرروانہ ہوجا تو یہ کسی حالت میں"اذن"نہیں اگرچہ فرض کرلیاجائے لہٰذا اس کا کوئی اعتبارنہیں اس لئے انہیں ضائع کردینا حرام ہے،اور حرام کسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔(ت) |
اسی طرح اگرلڑکا امردخوبصورت محل فتنہ ہے اور تنہاجاتاہے تو کہاگیا کہ اس صورت میں بھی باپ روك سکتاہے۔خانیہ میں بعد عبارت سابقہ ہے:
|
قیل ھذا اذا کان ملتحیا فان کان امرد صبیح الوجہ فلابیہ ان یمنعہ من الخروج [2]۱ھ |
یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ باریش ہو لیکن اگر وہ لڑکا بے ریش، خوبصورت ہو تو پھر دریں صورت والد اس کے باہر جانے سے یعنی سفرکرنے سے روك سکتاہے اھ(ت) |
اقول:(میں کہتاہوں)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگروہاں جانے میں اندیشہ فتنہ یقینی ہے یعنی ایساظن غالب کہ فقہیات میں ملتحق بہ یقین ہے توبلاشبہہ باپ روك سکتاہے بلکہ روکنا لازم ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع