30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے کی طرف اشارہ فرماتی ہے ظاہرہے کہ تربیت دین نعمت عظمی ہے اور اس کا شکر قطعًا فرض،مگر ان کا شکربعینہٖ شکرالٰہی عزوجل ہے اسی واسطے انہیں لِی میں داخل فرمایا ان کے بعد والدین کا ذکر ارشاد ہوا،ورنہ والدین کاحق نبی سے بڑھ جائے گا کہ یہاں جس طرح استاد وپیر کا ذکرنہیں ویسے ہی نبی کابھی ذکرنہیں۔دیوبندیوں سے انکارحدیث کی شکایت کیا معنی رکھتی ہے۔ علمائے حرمین شریفین کا فتوٰی حسام الحرمین دیکھئے کہ یہ لوگ خود حضوررسالت علیہ الصلوٰۃ والتحیۃ کے مخالف ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۹: مرسلہ شیخ محمداکرام الدین طالب علم درجہ حفظ(د)چوك لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ ۱۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کاباپ علوم دینیہ پڑھنے سے زید کو روکتا ہے کیا زید بلارضامندی اپنے باپ کے طلب علم دین کے واسطے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے شہرمیں جاکر علم دین پڑھے درحالیکہ اس کے وطن میں کوئی مولوی حافظ موجود نہیں ہے۔،جواب بحوالہ کتب مسطورفرمایا جائے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
طلبِ علم دین اپنی حاجت کے قدرفرض عین اور اس سے زائد فرض کفایہ ہے اس کے باپ کا اس سے روکنا خلاف حکم خداہے اور خلاف حکم خدامیں کسی کی اطاعت نہیں۔
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالٰی[1]۔ |
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالٰی کی نا فرمانی میں کسی کی اطاعت(اور فرمانبرداری)نہیں۔(ت) |
فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
|
لو خرج فی طلب العلم بغیر اذن والدیہ فلابأس بہ ولم یکن ھذا عقوقا[2]۔ |
اگرحصول علم کے لئے بغیراجازتِ والدین باہرجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں،اور یہ ان کی نافرمانی نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع