30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)دربود مریخی وخُونریزخُو جنگ وبہتان وخصومت جویداد[1]
(ترجمہ:(۱)جس شخص کو ستاروں سے وابستگی ہے مرد کو ستاروں سے خود ہی ہمت لڑانی چاہئے۔
(۲)عیش وعشرت رکھتے ہوئے،جس کاطالع زہرہ ستارہ ہے وہ مکمل رجحان عشق کی جستجو کی طرف رکھتا ہے۔
(۳)اگر اس کا طالع ستارہ مریخ ہے تو وہ خونریزی کی عادت اور لڑائی جھگڑا اور بہتان تراشی ڈھوندتارہتاہے)
اگر بے وجود ہوتا اور ضلالت کی بات تھی تومولانا نے اس پرکیوں واقفیت حاصل کی اور مزیدبرآں دوسرے مسلمانان کے واقفیت عامہ کے لئے کیوں رقم فرمایا۔علم نجوم اوراحکام نجوم جو منجمین پیشینگوئیاں کہہ کرکماتے پھرتے یہ دونوں دوچیز ہے یہ البتہ ضرورہے اور بیشك ہم اس پرمعمل ہیں کہ احکام نجوم پر ہم ایمان نہیں رکھتے کہ بالیقین یہی ہوکے رہے گا ستاروں کوفاعل حقیقی ہم ہرگز نہیں سمجھتے،مصدرخیروشر ستاروں کو ہم کبھی نہیں جانتے مگرہاں تاثیرات ان کے بیشك مانتے،افعال اثرخوب یاخراب جو اﷲ پاك نے ان میں دے کر متعین بکارعالم کیاہے وہ بیشك بمرضی اﷲ پاك یومًا ولیلًا جاری ہواکرتا،
|
" وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالْنَّہَارَ ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾"[2] |
اﷲ تعالٰی نے رات،دن،سورج اور چاند تمہارے تابع کر دئیے یعنی تمہاری خدمت میں لگادئے،اور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیں،یقینا ان باتوں میں عقلمند افراد کے لئے قدرت کی بے شمارنشانیاں ہیں۔(ت) |
تفسیرمولانا عبدالحق حقانی میں بہ تفسیر سورہ فاتحہ آیۃ اھدنا الصراط المستقیم دربیان وتشریح افراط وتفریط فی العبادات وافراط وتفریط فی العلوم،کے آخر عبارت میں صاف درج ومستنبط ہے کہ علم نجوم وطلسم ونیرنجات وکیمیا وغیرہ علوم ودیگر فنون کاافراط منع ویکدم تفریط بھی ناجائزحالت درمیانی بہتراور اسی کو حکمت کہتے اور حکمت وجہ کمال انسان اور مصداق صراط مستقیم[3]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع