30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ حکم اس کافرہ کی نسبت فرمایا جو سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکررہتی ہے پھر اس کا کیاذکر جو مطیع الاسلام بھی نہیں، اہلسنت وجماعت کے عقیدے اور طہارت ونمازوروزہ کے مسئلے سیکھنا سب پرفرض ہے اور ان کی معتبر کتابیں جیسے عقائد میں مختصررسالہ عرفان ایمان وغیرہ(نہ وہ کتابیں کہ بے دینوں یابدمذہبوں نے لکھیں جیسے بہشتی زیور وغیرہ کہ ایسی کتابیں پڑھناپڑھانا حرام ہے)غرض سنی عالم کی اردو تصنیف صحیح العقیدہ نیك خصلت سے پڑھواناضروری ہے ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کی،نہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کی،اور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا حیادار ہوتو کوئی حرج نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴ تا ۳۳۶: ازملك گجرات علاقہ احمدآباد مقام برمگام جامع مسجد غلام محی الدین ۴شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
علمائے شرع متین کی خدمت میں چند سوالات عرض کئے جاتے ہیں:
(۱)ایك شخص نے مدرسہ فخرًا وحسدًا قائم کیاہے کہ سابق اس کے سے ایك مدرسہ جاری تھا جو حسبۃً ﷲ عمومًا استفادہ عباد اﷲ کے لئے قائم کیاگیاتھا تو اس کے شکست ونیست ونابود کرنے کی غرض سے یہ ثانی مدرسہ بنایاکہ اس مدرسہ قدیمہ میں کوئی نہ پڑھے اور بند ہوجائے حالانکہ مدرسہ ثانیہ کی ضرورت نہ تھی،آیا اس طور سے اور اپنی اغراض نفسانی اور حطام دنیوی سے مدرسہ قائم کرناجائزہے؟
(۲)ایك شخص منکرقیامت اور تارك الجماعت اور منکرجمعہ ہے باوجود ان اعتقادات کے تعلیم وتعلم گجراتی اور انگریزی میں ترقی اور دینی علوم میں تنزل پسند کرنے والا شخص ہے تو اگر ایساشخص مدرسہ قائم کرے تو اس میں دینی تعلیم وتعلم جائزہے یانہیں،اور اخلاق بگڑنے کے خوف سے احتراز لازم ہے یانہیں؟
(۳)ایك شخص شریر اور فتنہ انگیز اور فقہائے کرام کی کتابوں کامنکراورفعل لواطت کاقائل بلکہ زانی بھی ہے تو ایسے مدرس کے پاس اپنی اولاد کوپڑھانادرست ہے یانہ؟ اور اس شخص کاکیاحکم ہے؟ اجیبوا بماھوصواب۔
الجواب:
(۱)اگرواقع یہی ہے کہ پہلامدرسہ تعلیم دین مطابق مذہب اہلسنت وجماعت کے لئے کافی ووافی تھا اور اس پرعقدًا وعملًا کوئی اعتراض شرعی نہ تھا تو اس کے قرب میں دوسرا مدرسہ محض بلاحاجت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع