30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنائیں گے،پھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے تو وہ بغیرعلم فتوے دیں گے تو خود بھی گمراہ ہوجائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳)وجوب مناظرہ کے لئے شرائط ہیں،اگر وہ سب پائے جاتے ہیں تو مناظرہ لازم ہے اور اس کا ترك مضر مذہب۔اور اگر ان میں سے ایك بھی منتفی ہے مثلًا طرف مقابل جاہل ہے یامتعصب معاند ہے جس سے قبول حق کی امید نہیں یامناظرہ میں فتنہ ہوتو کچھ ضرور نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: مسئولہ معین الدین احمد ڈاکخانہ بنگلا ضلع میمن سنگھ چہارشنبہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بغیرعلم حدیث وتفسیر واصول و فقہ کے فتوے دے یالکھے تو کیسا ہے یعنی شرعًا وہ شخص مجرم وماخوذ ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
ضرور مجرم ہے،حدیث میں ہے:افتوا بغیر علم فضّلوا واضلوا [1]بے علم کے فتوٰی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوا اور ان کو بھی گمراہ کیا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳: مسئولہ سیٹھ حاجی اتّوصاحب ازپوربندرکاٹھیاواڑ شنبہ ۶رمضان شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ گجراتی زبان لڑکیوں کو غیرمذہب والی عورتوں سے سیکھوانا یعنی پڑھوانا اور نیز لکھنے کی تعلیم دلوانا جیسے ہندوانی وآریہ مذہب والی عورتوں سے قبل واقفیت ضروری علم دینی کے جائزہے یانہیں یعنی اپنے دین حقہ کے مسائل اور دیگرمسائل روزمرہ مثل نماز وروزہ وغیرہ کے پہلے اور نیز اردو کی دنیوی کتابیں پڑھوانے کے واسطے کیاحکم ہے یعنی ہم لوگوں نے مدرسہ قائم کیا ہے اس مدرسہ میں عربی اردو گجراتی علم پڑھایاجاتا ہے،اب ہم علمائے دین سے دریافت کرناچاہتے ہیں کہ گجراتی علم درست ہو توہندوعورتوں سے پڑھوانا جائزہے یانہیں؟ اور لڑکیوں کو لکھنا اور پڑھانا سکھاناجائزہے یانہیں؟ اور یہی علوم مسلمان عورتوں سے سیکھنا درست ہے یانہیں؟ فقط
الجواب:
عورتوں لڑکیوں کو لکھنا سکھانا منع ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تعلموھن الکتابۃ[2] (عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع