30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو فتوٰی دکھلانے سے انکارکیا ایسافتوٰی کہ جس سے ہرایك مسلمان کو تعلق دینی ہے اس کا چھپارکھنا عالم کے حق میں کیساہے؟
الجواب:
اگرکوئی عذرشرعی نہ ہو تو فتوٰی چھپانا بہت بیجاتھا اگرچہ اعلان کے ساتھ وعظ میں حکم شرعی بیان کردینے کے بعد کتمان علم واخفائے حق کی حد میں نہیں آسکتا کہ عالم پرزبانی بیان حکم فرض ہے خود لکھ کردینا ضروری نہیں کما فی غمزالعیون وغیرہ (جیسا کہ غمزالعیون وغیرہ میں ہے۔ت)نہ کہ اور کالکھا پیش کرنا مگرجبکہ اس کے پیش کرنے میں عوام کی ہدایت کاظن غالب ہو اور اسے بلاوجہ شرعی چھپائے تو اب البتہ جرم کی حد میں آجائے گا کہ اس نے مسلمانوں کا خلاف ہدایت پررہنا پسند کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(لوگو!)تم میں سے کوئی شخص اس و قت تك مومن نہیں ہو سکتا جب تك اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنی ذات کیلئے پسند کرتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۲۸:ازکرانچی بندرشاپ کیپرصدربازار بردکان سیٹھ حاجی نورمحمد عبدالقادر مسئولہ عبداﷲ حاجی روزچہارشنبہ بتاریخ ۸ محرم ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کہ یہاں ایك مدرسہ مسلمان لڑکیوں کے لئے کھولاگیاہے جس میں اس مدرسہ کی معلمہ مروجہ تعلیم جو فی زمانہ اسکولوں میں لڑکوں کو دی جاتی ہے بعینہ وہ ہی تعلیم لڑکیوں کو دی جاتی ہے یعنی لکھانا و پڑھانا اور حساب ونظمیں یاد کراتی اور سکھاتی ہے،یہ فعل فی زمانہ لڑکیوں کے لئے روا اور جائزہے یاممنوع اور ناجائز ہے؟ علاوہ اس کے لڑکیاں بارہ چودہ سال کی بے پردہ آیا کرتی ہیں اور اس مدرسہ کے خادم نوجوان لڑکے ہیں ان کے سامنے اور وقت امتحان کے غیرمردوں کے آگے الحان سے نظمیں پڑھتی ہیں،کیایہ فعل شرعًا حرام ہے یانہیں؟ اور لڑکی مشتہاۃ ہونے کے لئے شرعًا کتنی عمر ہونی چاہئے اور ایسے مدرسہ کی تائید کرنے والوں اور ان کے والدین کے لئے جو اپنی لڑکیاں ایسے مدرسہ میں بھیجاکرتے ہیں اور تعلیم مروجہ دلاتے ہیں شرعًا کیاحکم ہے؟ فقط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع