30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحت الفاظ قرآن،اور پھر وہ مسلمانوں کے بچوں کو قرآن شریف پڑھاتاہے اور طرفہ تماشایہ کہ خود ودیگردوست یاروں کو چار پائی وکرسی پربٹھاتاہے اور قرآن شریف نیچے رکھاہوتا ہے،ایسے معلم اور پڑھانے والے کا اور متعلمین و پڑھنے والوں کا کیا حکم شرع شریف سے ہے؟ بیّنوا بالکتاب وتوجروا الٰی یوم الحساب(کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اور روزحساب اجروثواب پاؤ۔ت)
(۲)غیرمقلدین نے آج کل قصبوں اور دیہاتوں میں مترجم فی السطور خطبے تقسیم کئے ہی ہیں جو کہ اکثر جاہل حنفی پیش امام بھی عید میں ان کو پڑھاکرتے ہیں مع ترجمے کے۔آیا یہ مذہب حنفی میں جائزہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)قرآن مجید بے پڑھے کوئی شخص صحیح نہیں پڑھ سکتا،جس نے قرآن مجید نہ پڑھا اور استادوں سے صحیح نہ کیا اسے جائز نہیں کہ اوروں کو پڑھائے،نہ لوگوں کو جائزہے کہ ا س سے پڑھیں یا اپنی اولاد کو اس سے پڑھوائیں وہ سب گنہگار ہوتے ہیں۔جو معلم ایسا ہو کہ آپ اور اس کے یاردوست چارپائیوں اور کرسیوں پربیٹھیں اور قرآن مجید نیچے زمین پررکھاہو اگر اس سے مراد حقیقۃً زمین پررکھنا ہے اور وہ لوگ ایساکرتے ہیں تو ان کے اسلام میں کلام ہے مسلمان ہرگز ایسانہ کرے گا یہ وہی کرسکتاہے جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلًا نہ ہو اور جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلًا نہ ہو وہ مسلمان نہیں،اور اگریہ مراد ہے کہ پڑھنے والے لڑکے زمین پربیٹھتے ہیں قرآن مجید رحل پر یا ان کے ہاتھوں یاگود میں ہے اور یہ معلم وغیرہ ان سے اونچے بیٹھتے ہیں تو جب بھی سخت بدکار،ناہنجار،فساق،فجار،مستحق عذاب نار وغضب جبّار ہیں۔اور اگرقصدًا بوجہ توہین استخفاف شان قرآن مجید ایساکرتے ہیں تو آپ ہی کفار ہیں۔بہرحال ایسے معلم سے پڑھنا پڑھوانا حرام ہے اور اس کے پاس بیٹھناجائزنہیں۔المولٰی تعالٰی اعلم۔
(۲)جمعہ وعیدین کے خطبوں میں ساتھ ساتھ اُن کا ترجمہ پڑھنا خلاف سنت ہے اس سے احتراز چاہئے والمولٰی تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۷: مرسلہ عبدالعزیز تاجرچرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دوشنبہ تاریخ ۱۶ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
ایك شخص جوعالم ہے اس نے جمعہ کے روز وعظ کے اندریہ بیان کیا کہ جن لوگوں نے جمعہ کے روز روزہ افطارکیا اور نمازعید پڑھی وہ ناجائزہے ہم نے فتوٰی غیرعالم سے منگوایا ہے جن کو ضرورت ہو ہمارے مکان پر آکردیکھ لیں اور عام جمعہ میں فتوٰی نہیں دکھلایا اور جب مکان پرلوگوں نے طلب کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع