30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال اﷲ تعالٰی" فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیۡدِیۡہِمْ وَوَیۡلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوۡنَ﴿۷۹﴾"[1] وقال تعالٰی" یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۷۵﴾ "[2] ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:خرابی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لئے بوجہ ان کے ہاتھوں کی لکھائی کے،اور خرابی ہے ان کے لئے بوجہ ان کی کمائی کے جو وہ کمارہے ہیں۔(ت) اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ لوگ اﷲ کے کلام کو سمجھنے اور جاننے کے باوجود بدل ڈالتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۳۱۶: ازقاضی ٹولہ شہرکہنہ ۱۷ذی القدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگرکوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جوکہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اس نے کسی مدرسہ اسلامیہ یاعلماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگر وہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعوٰی کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھ کر اس کاترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باور کرائے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شخص کاحکم یافتوٰی اور اقوال قابل تعمیل ہیں یانہیں اور ایسے شخص کاکوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے توا س کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے؟
الجواب:
سندکوئی چیز نہیں،بہتیرے سندیافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سندیافتوں میں نہیں ہوتی،علم ہوناچاہئے اور علم الفتوٰی پڑھنے سے نہیں آتا جب تك مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علماء کرام میں اکثر حاضررہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھاہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہمدرسوں بلکہنام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھے،پس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالبًا صحیح ہوتاہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگردونوں وجوہِ علم سے عاری ہے صرف بطور خوداردوفارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع