30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
داءً عظیما[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
بہت کم ہوتاہے،اگرہوتو بڑی بیماری پیداہوجائے گی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۱۲: ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں:اگرکوئی عالم یہ دعوٰی کرتاہو کہ میں یہاں کے اہم اسلام کا حاکم ہوں اور منہیات شرعی پرزجروتوبیخ نہ کرتا ہوبلکہایسے اشخاص سے کہ جو منہیات شرعی میں مبتلا ہوں ان کے یہاں دعوتیں کھاتاہو نذرانہ لیتاہو یعنی شراب خوار،علی الاعلان ہوئے فروش ہو،مسکرات کا ٹھیکیدار ہو رشوت علی الاعلان لیتاہو، ڈاڑھی منڈاتاہو،علی الاعلان زناکرتاہو،وغیرہ وغیرہ۔پس ایسے شخصوں سے ملنے کو فخرجانتاہو ایسے عالم کے واسطے شریعت عالی کا کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
عالم دین سنی المذہب جو اپنے اہل علم شہر میں اعلم ہو ضرور ان کا حاکم شرعی ہے کما فی الحدیقۃ الندیۃ[2]عن الفتاوی العتابیۃ (جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوٰی عتابیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت) نہی عن المنکر اپنی شرائط کے ساتھ ضرور فرض ہے مگر وہ زجرو توبیخ میں منحصرنہیں ایسے مرتکبان کبائر کے ساتھ اختلاط میں نظر علماء مختلف رہی ہے اور قول فیصل یہ کہ اس کا فیصلہ عالم ماہر کی نظرپرہے جو اصلح سمجھے اس پر عمل کرے کما بیّنہ الامام حجّۃ الاسلام فی الاحیاء(جیسا کہ حجۃ الاسلام(امام غزالی)نے اس کو احیاء العلوم میں بیان فرمایا ہے۔ت)دعوت کھانا فی نفسہ حلال ہے جب تك معلوم ومتحقق نہ ہو کہ یہ کھانا جو ہمارے سامنے آیا بعینہٖ حرام مال ہے کما فی الھندیۃ[3] عن الذخیرۃ عن الامام محمد(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت)بہرحال عوام کو علمائے دین سنیان مہتین کی شان میں حسن ظن وحسن عقیدت لازم ہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع