30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
شخص مذکور نراجاہل اجہل وگمراہ بدمذہب ہے اسے وعظ کہناحرام اور اس کا وعظ سنناحرام،الصلٰوۃ علیك یارسول اﷲ کہنا باجماع مسلمین جائزومستحب ہے جس کی ایك دلیل ظاہروباہر التحیات میں السلام علیك ایھاالنبی ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ہے اور اس کے سواصحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بك الٰی ربی فی حاجتی ھٰذہ[1] (اے محمد(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) میں اپنی اس حاجت(ضرورت)میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتاہوں اور آپ کو وسیلہ بناتاہوں۔ ت) موجود جس میں بعد وفات اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضورپکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے مگرایسے جاہل اجہل کو احادیث سے کیاخبر،جب اسے التحیات ہی یادنہیں جو مسلمانوں کاہربچہ جانتاہے۔تقویۃ الایمان سخت بددینی وضلالت کی کتاب ہے اس کااور اس کے مصنف کاحال فتاوٰی ورسائل علماء عرب وعجم سے ظاہر،سردست فقیر کا رسالہ مسمی بہ الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ عــــــہ جدید الطبع حاضرمن شاء فلیطالعھا حاضرہے جو چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)
آمین آواز سے کہنے میں شیطان کے برچھالگنا اور جس قدر زیادہ بلندآواز سے ہو اسی قدرزیادہ زخم پہنچنا یہ بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں۔روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپرسانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گا،نہ مطلقًا پانی چڑھنے سے جب تك پانی موضع حقنہ تك نہ پہنچے،اور ایساہوگا تودردشدید پیداہوگا۔درمختارمیں ہے:
|
لوبالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسد الصوم وھذا فلما یکون ولوکان فیورث |
استنجا کرنے میں اگر اس تك مبالغہ کیا کہ پانی حقنہ(محل دوا) تك پہنچ گیا توروزہ فاسد ہوجائے گا اور ایسا |
عــــــہ: رسالہ ہذا(الکوکبۃ الشہابیہ)فتاوٰی فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلدنمبر۱۵ میں مرقوم ہے۔
[1] جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹۷،مسند احمدبن حنبل حدیث عثمان بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳۸،سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ ماجاء صلٰوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۰۰،المستدرك للحاکم کتاب الصلٰوۃ التطوع ۱/ ۳۱۳ کتاب الدعا،۱/ ۵۱۹ و ۵۲۶ دارالفکر بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع