30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لیس بعدہ لعنق الشبھۃ الا الجزّوالقطع اما ما ذکرالشیخ بعدہ جوابا عن حدیث الشفاء بقولہ، قلت لیس فیہ دلالۃ علی طلب تعلیمھن الکتابۃ وانما فیہ دلیل علی جوازہ الکتابۃ ونحن نقول بہ وانما غایۃ ان النھی عنہ تنزیھا لما تقرر فی المفاسد المرتبۃ علیہاھ فاقول: مبنی علی مذھبہ فان الامام الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایقول بسد الذرائع فلایکون حجۃ علینا لاسیما مع مانرٰی عن فساد الزمان وماتصم بسماعہ الآذان ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔نسأل اﷲ العفو و العافیۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
روایت فرمایا وہ عورت یقینی اور حتمی طور پر تلوارہے کہ جس کے بعد گردن کٹنے اور الگ ہونے کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں، رہی یہ بات کہ شیخ نے حدیث شفاء کا جواب اپنے اس قول سے ذکر فرمایا۔میں کہتاہوں کہ عورتوں کی تعلیم کتابت کے مطالبے پر حدیث پاك میں کوئی دلالت نہیں بلکہاس میں دلیل جواز ہے اور ہم اسی کے قائل ہیں،منکر نہیں،البتہ انتہائی بات یہ ہے کہ اس میں نہی تنزیہہ ہے اس لئے کہ اس پربہت سے مفاسد کا ترتّب ثابت ہوچکاہےاھ میں کہتاہوں(صاحب فتاوٰی)کہ یہ ان کے مذہب پرمبنی ہے اس لئے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ذرائع کی روك تھام کے قائل نہیں لہٰذا یہ ہمارے خلاف حجت (دلیل)نہیں خصوصًا جبکہ ہم فسادِزمانہ بھی دیکھ رہے ہیں اور وہ خطرناك حالات کہ جن کی سماعت سے کان بہرے ہوں۔پس گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی(کسی میں)ہمت وقوت نہیں سوائے خدائے عظیم و کبیر کے فضل وکرم کے۔اﷲ تعالٰی سے ہم مغفرت وعافیت چاہتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۱۰: ۶ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کاترجمہ اس طرح پرکرناکہ نیچے ترجمہ میں مخذوفات اور مطالب وغیرہ خطوط ہلالی بناکر لکھ دئیے جائیں جائزہے یاناجائز؟
الجواب:
الحمدﷲ قرآن عظیم بحفظ الٰہی عزوجل ابدالآباد تك محفوظ ہے تحریف محرفین وانتحال منتحلین کو اس کے سراپردئہ عزت کے گردبار ممکن نہیں " لَّا یَاۡتِیۡہِ الْبٰطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنْ خَلْفِہٖ ؕ "[1](باطل اس کے آگے اور پیچھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع