30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یختلف باختلاف الزمان الاتری ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذن للنساء ان یخرجن الی المساجد وقد کن یخرجن علی عھد الرسالۃ بل امر فی العیدین باخراج العواتق وذوات الخدور کما فی الصحیحین[1] بل قال لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ، اخرجہ احمد[2] ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما ومع ذٰلك اذا فسد الزمان نص الائمۃ بالمنع و قالت ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا لورای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من النساء مارأینا لمنعھن المساجدکما منعت نساء بنی اسرائیل[3]۔ |
بارہا اختلاف زمانہ سے حکم بدل جاتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عورتوں کومساجد میں جانے کی اجازت دی تھی اور وہ زمانہ رسالتمآب میں مساجد میں جایاکرتی تھیں بلہ عیدین(چھوٹی،بڑی عید)میں پردہ نشین خوادین کو بھی آپ نے عیدگاہ میں جانے کاحکم صادرفرمارکھاتھا جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایات میں موجود ہے بلکہ آپ نے یہاں تك فرمایا کہ باندیوں کو اﷲ تعالٰی کے گھروں(مساجد)میں جانے سے مت روکو۔امام احمد اور امام مسلم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کی تخریج فرمائی۔پس اس کے باوجود جونہی حالت زمانہ خراب وفاسد ہوگئے تو ائمہ کرام نے صراحتًا عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے روك دیا۔ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے ارشاد فرمایا اگرآنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عورتوں کے آج کے حالات دیکھتے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں تو انہیں مسجدوں میں جانے سے روك دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روك دی گئیں۔(ت) |
[1] صحیح البخاری کتاب العیدین باب اذلم یکن لہا جلباب فی العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۴،صحیح مسلم کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق وذوات الحدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۰
[2] صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،مسند احمدبن حنبل عن ابن عمر الکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۶ و ۱۵۱
[3] صحیح البخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع