30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقال لی الا تعلیمین ھذہ رقیۃ النملۃ کما علمتیھا الکتابۃ رواہ ابوداؤد[1] فقال(حدثنا ابراھیم بن مھدی المصیصی)وثقہ ابوحاتم وقال العقیلی حدث بمناکیر واسند عن یحٰیی بن معین قال ابراھیم بن مھدی جاء بمناکیز قال فی التقریب مقبول وھی درجۃ قاصرۃ عمن یقال فیہ صدوق سیئ الحفظ اویھم اویخطی اوتغیر بآخرہ(ناعلی بن مسھر)ثقۃ لہ غرائب بعد مااضر(عن عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز)صدوق یخطی ضعفہ ابومسھر وحدہ (عن صالح بن کیسان)ثقۃ ثت فقیہ(عن ابی بکر بن سلیمٰن بن ابی حثمۃ ثقۃ(عن الشفاء)رضی اﷲ تعالٰی عنھا فالحدیث لاینزل عن الصالح وھو قضیۃ سکوت فھذا قدیقال انہ یفھم من ظاھرہ الجواز لکنارأینا |
تعالٰی عنہا بیٹھی ہوئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تو اسے لکھناسکھانے کی طرح پھنسی کا دم نہیں سکھاتی۔امام ابوداؤد نے اس کو روایت کیاہے،چنانچہ انہوں نے فرمایا ہم سے ابراہیم بن مہدی مصیصی نے بیان کیا،ابوحاتم نے اس کی توثیق کی۔ عقیلی نے کہایہ منکرروایات بیان کرتاہے اور یحیٰی بن معین سے سندلایا اس نے کہا ابراہیم بن مہدی منکر حدیثیں لایا۔ تقریب میں کہاگیا وہ مقبول ہے او ریہ کم درجہ ہے اس سے کہ جس کے بارے میں کہاجائے صدوق سییئ الحفظ الخ یعنی وہ سچاہے البتہ اس کا حافظہ خراب ہے یا و وہم کرتاہے یا غلطیاں کرتاہے یا آخر عمرمیں اس میں تبدیلی آگئی تھی۔ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا کہ وہ ثقہ ہے البتہ اس کے لئے کچھ غرائب ہیں اس کے بعد کہ وہ نابینا ہوگیاتھا اس نے عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز سے روایت کی،وہ سچاہے البتہ غلطی کر جاتاہے صرف ابومسہر نے اسے ضعیف قراردیاہے،اس نے صالح بن کیسہان سے روایت کی وہ ثقہ ثبت اور فقیہ ہے اس نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی۔وہ ثقہ ہے اس نے سیدہ شفاء رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی۔پس حدیث صالح سے نیچے نہیں اترتی اور وہ قضیہ سکوت ہے کبھی کہاجاتاہے کہ اس سے بظاہر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع