30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلم تسلم لہ الاست ولوشاء ان یُحصی الکاتبین من الرجال فی قرن بل یوم واحد مااستطاع فھذا دلیل ای دلیل علی تحرز الامۃ من تعلیمھن الکتابۃ مع ما فیھا من جلیل الانتفاع۔ والرابع ان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی مقام الاحتیاط ویشھد لہ الحدیث الصحیح"کیف وقد قیل"وغیرذٰلک،مما بسطناہ فی رسالتنا"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"وقال الامام الجلیل الجلال السیوطی فی"التدریب"یعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذا کان فیہ احتیاط [1]اھ فی اذکار الامام النووی و فتح المغیث وسیم الریاض،الاحکام لا یعمل فیھا الابالحدیث الصحیح و الحسن الا ان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذٰلک[2] اھ باختصار،وقال العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیہ،الوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوات لماروی الترمذی عن جابررضی اﷲ تعالٰی عنہ |
پھر اس کے لئے صرف چھ عورتیں ہی بچیں۔اور اگر وہ لکھنے والے مردوں کا ایك صدی بلکہایك دن کاشمارکرنا چاہے تو نہ کرسکے۔اور یہ دلیل ہے اور مزید کونسی دلیل ہو اس پر کہ امت مسلمہ میں عورتوں کی تعلیم کتابت سے احتراز اور پرہیز کیاجاتاتھا باوجودیکہ تحرز میں بڑافائدہ ہے۔ چوتھی بات حدیث ضعیف پرمقام احتیاط میں عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ کوئی حدیث صحیح اس کی شہادت دے"کیسے،حالانکہ یہ بھی کہاگیا"اور اس کے علاوہ بھی متعدد باتیں کہی گئیں جن کو ہم اپنے رسالہ"الہاد الکاف فی حکم الضعاف"میں کھول کر شرح وبسط سے بیان کیاہے امام جلیل القدر جلال الدین سیوطی نے التدریب میں فرمایا حدیث ضعیف پراحکام میں بھی عمل کیاجاسکتاہے جبکہ اس میں احتیاط ہو اھ۔امام نووی کی الاذکار اور فتح المغیث اور نسیم الریاض میں ہے کہ احکام میں حدیث صحیح او حسن کے بغیر عمل نہیں کیاجاسکتا الاّ یہ کہ اس کے عمل کے سلسلہ میں مقام احتیاط ملحوظ ہو،اھ باختصار، چنانچہ علامہ ابراہیم حلبی نے الغنیہ میں فرمایا ہرنماز میں اذان اور اقامت کے درمیان وصل مکروہ ہے،اس کی وجہ جامع ترمذی کی وہ حدیث ہے جو حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع