30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وستأتیك اقوال العلماء،وجہ اللکھنوی ان یستخرج نساء کاتبات فلم یأت فی ھذہ الالف و ثلثمائۃ سنین،الاتسع نسوۃ،منھن السیدۃ اسماء بنت الفقیہ کمال الدین موسٰی بمدینۃ زبیہ فوفیت سنہ ۹۰۴ قال فی"النورالسافر فی اخبار القرن العاشر" کان لقولھا وقع فی القلوب وربما کتبت الشفاعات الی السطان والقاضی و الامیر فتقبل شفاعتھا[1] اھ ولیس فیہ مایغنی بمقصودہ فمثل الکتابۃ لایلزم ان تکون بید نفسھا،وقدوردفی الاحادیث کتب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الملوك وغیرھم،و قد شاع وذاع ان السلطان کتب لفلان کذا مع انہ لا یعرف ان یضع سوادافی بیاض ومنھم من لم یعرف الا وضع اسمہ فی الامضاء ولم یذکر نص "نزھۃ الجلساء"فی ترجمۃ المستکفی باﷲ،ومریم بنت ابی یعقوب انما قال ذکر الکتابۃ فی ترجمتھا فلعلہ ذکر کما فی اسماء الزبیدیۃ |
عنقریب اقوالِ علماء تیرے ہاں پیش ہوں گے،لکھنوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لکھنے والی عورتوں کا استخراج کیا توتیرہ سوسال کی مدت میں نوعورتیں بھی منظرعام پر نہ آئیں،ان میں سیّدہ اسماء دخترکمال الدین موسٰی مدینہ زبید میں ہوئیں ان کی وفات ۹۰۴ھ میں ہوئی۔النور السافر فی اخبر القرن العاشر میں کہاگیا کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے قول کی وقعت تھی بعض دفعہ وہ بادشاہ،امیر یاقاضی کے دربار میں کئی سفارشیں بصورت درخواست پیش کرتیں تو اس کی سفارشیں قبول کی جاتی تھیں اھ اس میں مقصود تك رسائی والی کوئی شے نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ کتابت انہی کے ہاتھ سے ہو اس لئے کہ بہت سی حدیثوں میں وارد ہواہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بادشاہوں وغیرہ کو خطوط لکھے،اور مشہور ہے کہ بادشاہ نے فلاں کے لئے اس قدر انعام لکھ دیا جبکہ بادشاہ کچھ وہ ہیں جو لکھنا بالکل نہیں جانتے اور کچھ وہ جو صرف اپنا دستخط کرسکتے ہیں یعنی صرف اپنانام لکھ سکتے ہیں اور نزہۃ الجلساء کی تصریح مستکفی باﷲ کے ترجمہ میں ذکر نہ کی،اور مریم بنت یعقوب،اس نے کہا اس کے ترجمہ میں کتابت ذکر کی گئی ہے،شاید اسی طرح مذکور ہوجیسا کہ اسماء زبیدیہ کے ترجمہ میں مذکورہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع