30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الٰی فائدۃ ۱۴ وقال الامام الجلیل السیوطی فی التعقبات علی الموضوعات المتروك والمنکر اذا تعددت طرقہ ارتقی الی درجۃ الضعیف الغریب بل ربما یرتقی الی الحسن[1]اھ وقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر الضعیف یصیر حجۃ بذٰلك لان تعددہ قرینۃ علٰی ثبوتہ فی نفس الامر[2]اھ۔ والثالث درجت الامۃ المرحومۃ علی العمل بہ من لدن السلف وھلم جرا وفی ھذا من تقویۃ الحدیث مافیہ کما بیّناہ فی الافادۃ فی"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"وقال الامام خاتم الحفاظ فی التعقبات قد صرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العم بہ وان لم یکن لہ سندا یعتمد علی مثلہ [3]اھ۔
|
سے ۱۴ تك بیان کیاہے چنانچہ جلیل القدر امام علامہ سیوطی نے التعقبات علی الموضوعات میں فرمایا حدیث متروك اور منکر اس صورت میں ضعیف اور غریب کے درجہ تك پہنچ جاتی ہے جبکہ اس کے طرق یعنی سندیں متعدد ہوں،بلکہ بعض اوقات درجہ حسن تك اس کا ارتفاع ہوجاتاہے یاارتقاء ہوجاتاہےاھ محقق علی الاطلاق کمال ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا حدیث ضعیف تعدّدِطرق کی وجہ سے حجت ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے طرق کا تعدّد اس کے نفس الامری ثبوت پرقرینہ ہےاھ۔تیسری بات امت مرحومہ اس حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے اور یہ زمانہ سلف سے قرنًا فقرنًا ہمیشہ سے چلاآرہاہے۔اس میں حدیث کے اندر جو کچھ ہے اس کی تقویت ہے جیسا کہ ہم نے الھاد الکاف فی حکم الضعاف کے افادہ میں بیان کیاہے،چنانچہ امام خاتم الحفاظ نے التعقبات میں فرمایا۔بہت سے ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اہل علم اس کو نقل کریں اگرچہ اس کی کوئی ایسی سند نہ ہو جس کی مثل پراعتماد کیاجائےاھ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع