30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الا علی جھۃ القدح فیہ فاولہ وان کان اھون مما قال فی محمد فاٰخرہ وھ الحکم اشد وقال وقال الحاکم یروی احادیچ موضوعۃ ذاھب الحدیث وقال الدار قطنی متروك و قال البخاری فی حدیثہ نظروھو لا یقول ھذا الا فیمن یتھمہ غالبا،کما قال الازدی فی عبداﷲ بن داؤد التمار،و قال الازدی حدیثہ یدل علی کذبہ وکل ذلك لم یؤثر فیہ،فاقتصر الحافظ فی التقریب علی قولہ صدوق یخطی وذٰلك لان ابن معین وثقہ فکیف تؤثر فی رجل معدود من اولیاء اﷲ تعالٰی فالحدیث حسن ان شاء اﷲ تعالٰی ھذا وجہ وانعم بہ من وجہ،والثانی ان الحدیث جاء عن ثلٰثۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم بطرق متنوعۃ فنیجبر ضعف بعضھا ببعض اذلیس فیھا وضّاع ولا کذاب اعنی من تحقق فی ذٰلک،وقد بیّناہ فی کتابنا "منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین"من الفائدۃ۱۲ |
روایت کرتاہے لہٰذا بغیر جرح وقدح کے اس کاتذکرہ کرنا جائز نہیں۔اس کا اول اگرچہ اس کے آخر سے آسان ہے جو کچھ اس نے"محمد"کے بارے میں کہاتاہم آخر جوکہ حکم ہے زیادہ سخت ہے۔اس نے کہا حاکم نے کہا کہ وہ موضوع حدیثیں روایت کرتاہے(ذاھب الحدیث)ہے امام دارقطنی نے کہامتروك ہے۔امام بخاری نے کہا اس کی حدیث میں نظرہے اور وہ یہ بات اسی کے متعلق کہتاہے جو غالبًا متہم ہو،جیسا کہ ازدی نے عبداﷲ بن داؤدتمار کے بارے میں کہا ہے ازدی نے کہا اس کی حدیث اس کے جھوٹ پردلالت کرتی ہے او ر ان تمام باتوں نے اس پرکوئی اثرنہیں کیا۔لہٰذا حافظ نے التقریب میں اپنے اس قول"صدوق یخطی(سچاہے،غلطی کرتاہے)پر اکتفاك یاہے کیونکہ ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے پھر یہ باتیں کیسے اثرانداز ہوسکتی ہیں اس شخص پر جو اولیاء اﷲ میں شمار ہوتا ہو لہٰذا حدیث انشاء اﷲ حسن ہے اور یہ ایك وجہ ہے اور کتنی اچھی وجہ ہے۔دوسری بات حدیث تین صحابہ سے مختلف طریقوں سے مروی ہے(اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) لہٰذا بعض کا ضعف بعض سے دورہوجاتاہے کیونکہ اس میں وضّاع کوئی نہیں اور نہ ہی کذاب ہے اور ہم نے اس کو اپنی کتاب منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین انگوٹھے چومنے سے آنکھوں کاروشن ہوتا)کے فائدہ ۱۲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع