30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المعرفۃ وتام الورع،وقال فی ترجمۃ عبدالعزیز بما ابی وقال ابن حبان روی عن نافع عن ابن عمر نسخۃ موضوعۃ،ھکذا قال ابن حبان[1] بغیر بینۃ، وقال فی ترجمۃ محمد بن الفضل شیخ البخاری،ابن حبان الخساف المتھور[2] وقال فی ترجمۃ حجاج بن ارطاۃ کذا قال ابن حبان ھذا القول مجازفۃ[3] فھذا قال فیہ لاتحل الروایۃ عنہ الاباعتبار کان یضع الحدیث،اقول:مااظھر الاکرامۃ من اﷲ تعالٰی لمحمد بن ابراھیم،حیث ناقض ابن حبان نفسہ فی نفس واح فجعلہ وضّاعا و جعلہ ممن یکتب حدیثہ و یعتبر بہ وسبحٰن اﷲ من وضّاع یعتبر بحدیثہ وقدا فحش القول ھکذا فی محمد بن علاقۃ فقال کان یروی الموضوعات عن الثقات لایحل ذکرہ |
معرفت اور تام ورع رکھتاہو عبدالعزیز بن ابی کے ترجمہ میں کہا ابن حبان نے کہا نافع سے بواسطہ ابن عمر ایك موضوع نسخہ روایت کیاگیاہے،ابن حبان نے یہ بغیر دلیل کے بیان کر دیا۔علامہ ذہبی نے محمد بن فضل شیخ بخاری کے ترجمہ میں کہا ابن حبان مشہور فضول گوہے اور ذہبی نے حجاج بن ارطاۃ کے ترجمہ میں کہا یوں ابن حبان نے کہا،یہ قول تخمینی ہے۔تو یہ ابن حبان،محمد بن ابراہیم کے متعلق کہتاہے کہ اس سے روایت کرنا سوائے فہم واعتبار کے حلال نہیں کیونکہ وہ حدیثیں وضع کرتاہے۔اقول:(میں کہتاہوں)اس نے اس کا اظہار نہیں کیامگریہ کہ اﷲ تعالٰی کی طرف سے محمد بن ابراہیم کی کرامت ہے کہ ابن حبان نے نفس واحد میں اپنے آپ سے مناقضہ اور مقابلہ کیاکہ اسے وضّاع(حدیثیں گھڑنے والا)بھی قراردیا اور اسے ان لوگوں میں بھی شامل کیا کہ جن کی حدیثیں لکھی جاتی ہیں اور ان پر اعتماد کیاجاتاہے۔پاك ہے اﷲ تعالٰی۔ کون ایسا وضّاع ہوگا جس کی حدیثوں پراعتماد کیاجائے اور اسی طرح ابن حبان نے فحش گوئی سے کام لیا کہ محمد بن علاقہ کے بارے میں کہا کہ وہ مستند راویوں سے موضوعات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع