30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تفرد بہ[1] اھ،مع ان الحدیث رواہ عن ابن شھاب ثلٰثۃ، یونس کما عرفوا ومعمر کما روی الواقدی وثالثھم عقیل قال احمد بن منصور الرمادی(وھو ثقۃ حافظ حجۃ)لما قدمت مصر حدثنا ابن ابی مریم ثقۃ ثبت فقیہ)انا نافع بن یزید(ثقۃ عابد) عن عقیل عن ابن شہاب فذکر حدیث بنھان قال فلما فرغ منہ ضحکت فقال لم تضحك فاخبرتہ بقصۃ علی واحمد،قال وقال ابن ابی مریم ان شیوخنا المصریین لھم عنایۃ بحدیث الزھری قال الرمادی وھذا الحدیث فیما ظُلِم فیہ الواقدی،بلی ذکر محمد بن ابراھیم،ابن حبان الذی قال فیہ الذھبی فی ترجمۃ عثمان الطرائفی اما ابن حبان فانہ یقعقع کعادتہ[2]۔والکلام فی الرجال لایجوز الابعد تمام |
وہ متفرد ہےاھ حالانکہ اس حدیث کو ابن شہاب زہری سے تین افراد نے روایت کیاہے(۱)یونس جیسا کہ معروف ہے (۲)معمر جیسا کہ واقدی نے روایت کی(۳)عقیل۔چنانچہ احمدبن منصور رمادی نے کہا وہ یعنی عقیل ثقہ حافظ اور حجت ہے۔جب میں مصر میں آیا تو ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا(یہ ثقہ،ثبت اور فقیہ ہے)ہمیں نافع بن یزید نے بتایا(یہ بھی ثقہ اور عابد ہے)اس نے عقیل،اس نے ابن شہاب زہری کے حوالے سے روایت کی پھر اس نے حدیث نبہان بیان کی۔ راوی یعنی احمد منصور رمادی نے کہا جب وہ اس کے ذکر کرنے سے فارغ ہواتو میں ہنس پڑا تو اس نے کہا ہنستے کیوں ہو؟ تومیں نے اسے علی بن مدینی اور امام احمد کاواقعہ بتایا تو ابن ابی مریم نے کہا ہمارے مصری شیوخ کے لئے حدیث زہری عنایت ہے،رمادی نے کہا اس حدیث میں واقدی پر ظلم کیاگیا،ہاں ابن حبان نے محمد بن ابراہیم کا ذکر کیاہے ابن حبان وہی ہے جس کے بارے میں عثمان طرائفی کے ترجمہ میں علامہ ذہبی نے فرمایا لیکن ابن حبان تو وہ ویسے ہی کھٹ کھٹ کرتاہے جیسا کہ اس کی عادت ہے۔اور اسماء الرجال میں کلام کرنا جائزنہیں سوائے اس شخص کے جو مکمل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع