30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکذب یحتمل الغلط کقولہ کذب ابومحمد[1]اھ وکتبت علیہ وکذٰلك قول ابن مسعود وحذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنھما فی دوران السماء کذب کعب،وقد شبہ ھشام بن عروۃ ومالك واجلۃ علی محمد بن اسحٰق انہ کذاب،وحافوا علیہ ثم لم یذکروا الامالایثبت بہ کذب ولاالمرام بہ اصلا، ویرد لابن اسحٰق الوثاقۃ لاجرم ان لم یعرج علیہ الحافظ فی التقریب۔وانضر فی محمد بن ابراھیم علٰی قولہ،منکر الحدیث وکذٰلك لم یزد البیھقی فی حدیثہ علی استنکارہ بھذا السند،اقول:والرجل اعنی محمد بن ابراھیم من المشائخین کما فی المیزان وغیرہ،الجمع السائح من شتّات العلوم ما لیس |
ضروری ہے کیونکہ کذب(جھوٹ)غلطی کا بھی احتمال رکھتا ہے(یعنی شاید اس کی مراد کذاب اور کذب سے غلطی ہو یعنی وہ بہت غلط گوہے)جیساکہ قائل کا کہنا کہ ابومحمد نے جھوٹ کہا اھ اور میں نے اس پرلکھاہے یونہی ابن مسعود اور حذیفہ یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا دورانِ آسمان کے متعلق کعب کے بارے میں فرمانا کذب کعب یعنی کعب نے غلط کہا اور یہ مطلب نہیں کہ اس نے جھوٹ کہا،چنانچہ ہشام بن عروہ، مالك اور دوسرے جلیل القدر لوگوں نے محمد بن اسحق کے کذاب ہونے پر شبہ کا اظہار فرمایا لیکن انہوں نے اس پر زیادتی کی۔پھر انہوں نے ایسے امور ذکرکئے جن سے اس کا کذب ثابت نہیں ہوتا اور نہ اس سے کلیۃً مقصد حاصل ہوتا ہے۔اور ابن اسحق کے لئے بلاشبہ توثیق وارد ہوئی ہے اگرچہ حافظ نے التقریب میں اس کی موافقت نہیں کی۔اور محمد بن ابراہیم کے بارے میں توقف اس کے اس قول سے کہ وہ منکرالحدیث ہے اور اسی طرح امام بیہقی نے اس سند سے اس کی حدیث میں صرف استنکار کااضافہ کیاہے۔میں کہتاہوں محمد بن ابراہیم مشائخ میں سے ہے جیسا کہ المیزان وغیرہ میں ہے،وہ اس قدر جامع ہے کہ جو علوم دوسروں کے پاس نہیں وہ ان مختلف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع