30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن عبداﷲ احمد عن ابیہ وروی ابو علی بن الصواف عن عبداﷲ عن ابیہ،صالح،ولیس فیہ لامام معتمد جرح مفسر قادح یسقط حدیثہ،وابن خراش لیس ھناک،قال ابوزرعۃ کان رافضیا خرّج مثالب الشیخین اقول:قال عبد ان،وحمل ابن خراش الی بندار عندنا عبدان وضع جزأین صنفھما فی مثالب الشیخین فاجازہ بالفی درھم[1]،قال الذھبی ھذا واﷲ الشیخ المعثر الذی ضل سعیہ فما انتفع بعلمہ فلاعتب علی حمیرالرافضۃ،قال ابوبکر بن حمدان المروزی سمعت ابن خراش یقول شربت بولی فی ھذاالشاند خمس مرات[2] اھ وکان جرئیا علی تکذیب الثقات،وھذا احمد بن الفرات الامام الحافظ الثقۃ الفقیہ الحجۃ الذی اطبقوا علی توثیقہ و لم یأت فیہ عن احد من الائمۃ تلیین ولابعض تلیین |
نے بواسطہ عبداﷲ بن احمد اپنے والد کے حوالہ سے اسی طرح روایت کی۔ابو علی بن صواف نے عبداﷲ عن ابیہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ صالح ہے اس کے حق میں کسی مستند امام کی قادح،جرح نہیں جو اس کی حدیث کو ساقط کر دے۔رہا ابن خراش کا معاملہ تو وہ اس طرح کانہیں چنانچہ ابو زرعہ نے فرمایا کہ وہ رافضی تھا،اس نے مطاعن وعیوب شیخین(حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما)کی تخریج کی۔اقول:(میں کہتاہوں)عبدان نے کہا ابن خراش بندار کے پاس ہمارے نزدیك دو ایسے اجزاء اٹھالائے جو کہ مطاعن شیخ میں اس نے تصنیف کئے اور دوہزار درہم انعام پایا۔علامہ ذہبی نے فرمایا خدا کی قسم یہ بوڑھا کذاب عیب لگانے والا ہے جس کی سعی فضول ولاحاصل کاموں میں ضائع ہوئی اس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا لہٰذا رافضی گدھوں پر کوئی عتاب نہیں۔ابوبکر بن حمدان مروزی نے کہا میں نے ابن خراش کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے پانچ مرتبہ اس شان میں اپناپیشاب پیااھ وہ مستندومعتمد راویوں کوجھٹلانے پر دلیرتھا۔یہ احمد بن فرات امام،حافظ،ثقّہ،فقیہ اور حجت تھا کہ جس کی توثیق پر ائمہ کرام کا اتفاق ہے۔ائمہ میں سے کسی امام سے اس کی مکمل یا بعض نرمی(ڈھیلاپن) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع