30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التعلیقات،غیرانہ اختلط باٰخرہ لکن لم یسقط بہ حدیثہ فقد قال الجمہور ھو ممن یکتب حدیثہ ذکرہ النووی [1]فی شرح صحیح مسلم،وقال مسلم فی مقدمۃ صحیحۃ اسم الستروالصدق و تعاطی العلم یشملہ[2] وقد حسن لہ الترمذی حدیثہ فی الحمام، ونقل عن البخاری انہ صدوق وربمایھم فی الشیئ فاذا روی عنہ حفص القاری خرج جعفر بن نصر، والصواب عندنا فی الامام الجلیل حفص القاری تشیّبہ،فقد قال وکیع انہ ثقۃ،و قال الذھبی،ھو فی نفسہ صادق،اختلف فیہ عن احمد فروی حنبل بن اسحٰق عنہ،مابہ بأس،وروی عنہ اخری متروك الحدیث ھکذا روی ابن ابی حاتم |
رجال میں سے ہیں اور تعلیقات بخاری کے رواۃ میں سے ہیں البتہ زندگی کے آخری حصے میں انہیں اختلاط ہوگیاتھا لیکن اس وجہ سے ان کی حدیث ساقط نہیں قرارپائی۔جمہور کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں شمار ہے جن کی حدیث کو لکھاجاتا ہے، امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں یہ بیان فرمایا امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں فرمایا:ستر،صدق اور اخذ علم کانام اس کو شامل ہے۔امام ترمذی نے"حدیث حمام"میں اس کی تحسین فرمائی،اور امام بخاری سے نقل کیاگیا کہ وہ صدوق ہے البتہ کبھی کبھار بعض چیزوں میں وہ وہم کا شکارہوجاتاہے جب اس سے حفص قاری نے روایت کیا تو جعفر بن نصر درمیان سے خارج ہوگیا،اور ہمارے نزدیك جلیل القدرامام حفص قاری کی توثیق صواب(درست)ہے۔چنانچہ وکیع بن جراح نے فرمایا کہ وہ ثقہ ہے اور علامہ ذھبی نے فرمایا وہ فی نفسہٖ صادق ہے،امام احمد سے اس کے بارے میں اختلاف نقل کیاگیاہے چنانچہ حنبل بن اسحق نے امام احمد سے یہ روایت کی کہ مابہ بأس یعنی اس میں کوئی حرج نہیں،اور ان سے دوسری روایت نقل کی گئی کہ وہ متروك الحدیث ہے، ابن ابی حاتم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع