30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
درجامع الصغار استروشنی است ذکر والدی رحمہ اﷲ تعالٰی من صلٰوۃ الملتقط اذا بلغ الصبی عشر سنین یضرب لاجل الصلٰوۃ بالید لابالخشب ولا یجاوز الثلث وکذا المعلم لیس لہ ان یجاوز الثلث قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمرداس المعلم ایاك ان تضرب فوق الثلث فانك اذا ضربت فوق الثلث اقتص اﷲ منک[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جامع صغار استروشنی میں ہے:میرے والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے بحث صلٰوۃ ملتقط میں ذکر فرمایا کہ جب بچے کی عمردس سال ہوجائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزادی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیاجائے۔ یونہی استاد کے لئے روانہیں کہ تین مرتبہ سے تجاوز کرے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے استاذ کی بچوں کو مارنے کے بارے میں فرمایا: تین مرتبہ سے زائد ضربیں لگانے سے پرہیزکرو کیونکہ اگر تم تین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اﷲ تعالٰی قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۰۹: ازمارہرہ ضلع ایٹہ سرکارکلاں مرسلہ حضرت شاہ سید مہدی حسن میاں صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ
عالی جناب مولٰینا صاحب زید مجدکم! اپنا شرعی خیال عورات کے لکھنے کی نسبت ظاہرفرمائیے یہاں عرصہ سے یہ امرمعرض بحث میں ہے۔
الجواب:
حضور،عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعًا ممنوع وسنت نصارٰی وفتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے جس کے مفاسد شدیدہ پر تجارب حدیدہ شاہد عدل ہیں،متعدد حدیثیں اس کے ممانعت میں وارد ہیں جن کی بعض کی سند عندالتحقیق خود قوی ہے اور اصل متن حدیث کے معروف و محفوظ ہونے کا امام بیہقی نے اعادہ فرمایا اور پھر تعدِّد طرق دوسری قوت ہے اور عمل امت وقبول علماء،تیسری قوت اور محل احتیاط وسدِّفتنہ،چوتھی قوت تو حدیث لااقل حسن ہے اور ممانعت میں اس کا نص صریح ہونا خود روشن ہے بخلاف حدیث شفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کہ حفصہ نے فرمایا کیاحفصہ کو غلّہ کا منۃ نہ سکھائے گی جیسے اسے لکھناسکھایا،اجازت میں اصلًا کوئی حدیث صریح نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع