30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کی اطاعت نہیں۔ت)مگر اس نہ ماننے میں گستاخی و بے ادبی سے پیش نہ آئے فان المنکرلایزال بمنکر(گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں ہوتا۔ت)نافرمانی احکام کا جواب اسی تقریر سے واضح ہوگیا اس کا وہ حکم کہ خلافِ شرع ہو مستثنٰی کیاجائے گا بکمال عاجزی وزاری معذرت کرے اور بچے اورا گر اس کا حکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجاآوری میں اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کا حکم معلوم ہوچکا،اس نے اسلام کی گرہوں سے ایك گرہ کھول دی۔علماء فرماتے ہیں جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذا پہنچی وہ علم کی برکت سے محروم رہے گااور اگر اُس کے احکامات واجبات شرعیہ ہیں جب تو ظاہر ہے کہ اُن کا لزوم دوبارہ ہوگیا ان میں اس کی نافرمانی صریح راہ جہنم ہے،والعیاذباﷲ تعالٰی۔رہا پردہ اس میں استاذ وغیراستاذ،عالم وغیر عالم، پیرسب برابرہیں۔نوبرس سے کم کی لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو سب غیرمحارم سے پردہ واجب،اور نو سے پندرہ تك اگرآثار بلوغ ظاہرہوں توواجب،اور نہ ظاہرہوں تو مستحب خصوصًا بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ وکمال اشتہاکا ہے ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل[1]،نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(جو اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو وہ جاہل ہے،ہم اﷲ تعالٰی سے عفواورعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۲: ازبنارس محلہ مدنپورہ اونچی مسجد مرسلہ مولوی محمدعبدالرحمن صاحب جشانی شافعی ۱۲رمضان ۱۳۱۳ھ
ہمارے علمائے اہلسنت رحمہم اﷲ تعالٰی اس میں کیافرماتے ہیں کہ جیسا کہ حنفی کو(بموجب اس کے جو کہ درمختار میں ہے اس بات سے کہ ضرورت کے وقت کسی مسئلہ میں اپنے امام کے سوا دوسرے امام کی تقلید کرنے کا کچھ خوف نہیں ہے لیکن بشرط اس کے کہ اس مسئلہ میں اسی امام کے سب شروط کاالتزام کرے اور نیز بموجب اس کے جو کہ شامی میں ہے اس بات سے کہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں ذکرکیا ہے کہ اگر ضرورت کے وقت امام مالك کے قول پر فتوٰی دیاجائے تو جائزہے اور نیز بموجب اس کے جو کہ جامع الرموز میں ہے اس بات سے کہ مفقود کی مدت انتظار کی تعیین میں امام مالك اور امام اوزاعی چاربرس تك کے قائل ہیں پھر بعد چاربرس اس کی بیوی کونکاح کرنے کی اجازت ہے تو اگر ضرورت کے وقت ہمارے یہاں بھی اس قول کے ساتھ فتوٰی دیاجائے تو کچھ خوف نہیں)ضرورت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائز ہے ایساہی ضرورت کے وقت مثلًا مسئلہ انتقاض الوضوء باکل مامستہ النار میں شافعی کو بھی اس کے مذہب کی کس کتاب کے بموجب دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائزہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع