30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرامنھا فاٰت الذی ھو خیر وکفر عن یمینک[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
سند سے تخریج فرمائی،انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تو کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر دیکھے کہ اس کام کا کرنا بنسبت دوسرے کام کے بہترہے توبہترکام ہی کرو البتہ اپنی قسم کاکفارہ اداکرو۔اورا ﷲ تعالٰی پاک،برتر اور خوب جاننے والا ہے اور اس بزرگی والے کا علم بڑاکامل اور نہایت پختہ ہے۔(ت) |
مسئلہ ۳۰۱: ازموضع ٹاہ ضلع بریلی معرفت نیازمحمدخاں صاحب ۱۲رجب ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاگرد کے ذمہ استاد معلم کے حقوق کس قدر ہیں اور اس کے ادانہ ہونے میں کیامواخذہ ہوگا اور استاد کے احکام کی نافرمانی میں شاگرد کی نسبت کیا حکم ہے اور اس مسئلہ میں کہ شاگرد نات کاپردہ استاد سے بعد بلوغ ہوناچاہئے یاقبل بلوغ بھی؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
عالمگیری میں وجیزامام حافظ الدین کردری سے ہے:
|
قال الزندویستی،حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السوأ وھو ان لایفتح بالکلام قبلہ و لایجلس مکانہ وان غاب ولایرد علٰی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ[2]۔ |
یعنی فرمایا امام زندویستی نے عالم کاجاہل اور استاذ کا شاگرد پرایك ساحق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔ |
اس میں غرائب سے ہے:
|
ینبغی للرجل ان یراعی حقوق |
آدمی کو چاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق واجبہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع