30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن الاٰخرکماتقرر[1]۔ |
ایك دوسرے کاوارث نہ ہوتا جیسا کہ(اپنی جگہ)یہ ثابت ہوچکا ہے۔(ت) |
یوہیں بعض مسائل حیض ونفاس وعدت وغیرہا میں بھی ان علوم کی حاجت مثلًا عورت ٹھیك وقت غروب شمس حائضہ ہوئی پھر سفرکیا دسویں دن وہاں ٹھیك وقت غروب دم منقطع ہوا،ناواقف مطلقًا اسے عشرہ کاملہ حیض جان کرانقطاع للاکثرکے احکام جاری کرے گا اور واقف بلحاظ امور معلومہ کبھی انقطاع للاقل کہے گا کبھی زیادہ علی العشرہ پرآگاہ ہوکر عادت سے جو دن زائد ہوئے انہیں استحاضہ مانے گا،یوہیں اگر شہردیگر میں تیسرے دن وقت غروب انقطاع ہوا،ناواقف مطلقًا حیض اور واقف کبھی استحاضہ جانے گا کہ تقادیر حیض میں ایسی ہی تدقیق معتبرہے۔شرح نقایہ میں ہے:ردالمحتارمیں ہے:ای سدس القرص[2] (یعنی آفتاب کی ٹکیہ کا چھٹاحصہ۔ت) غورکیجئے کتنا تفاوت احکام ہوگیا اور تعلیقات میں توہزارہا صورتیں نکلیں گی جن کا حکم بے ان علوم کے ہرگز نہ کھلے گا اورفقیہ کو ان کی طرف رجوع سے چارہ نہ ملے گا کمالایخفی علی من اوتی حظامنھا(جیسا کہ اس پرپوشیدہ نہیں جو ان علوم میں سے معمولی حصہ بھی رکھتا ہے۔ت)تو مطلقًا علوم عقلیہ کے تعلیم وتعلم کوناجائز بتانا یہاں تك کہ بعض مسائل صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح وتلویح جیسے کتب جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالت شدیدہ وسفاہت بعیدہ ہے ہاں اکثرطبعیات وعامہ الٰہیات فلاسفہ مخذولین صدہا کفرصریح وشرك جلی پر مشتمل مثلًا زمان وحرکت وافلاك وہیولی وصورت جرمیہ ونوعیہ وسفسطات وانواع موالید ونفوس کاقدم اور خالقیت عقول مفارقہ وانکار فاعل مختار وعلم جزئیات و حشراجساد وجنت ونارواحالہ خرق افلاك واعادہ معدوم وصدورکثیر عن الواحد وغیرہا اور ان کے سوا اور اجزأ وفروع فلسفہ بھی کفریات صریحہ ومحرمات قبیحہ سے مملو ہیں مثلًا علم طلسمات ونیرنجات جزء التاثیر من علم النجوم واحکام زائچہ عالم وزائچہ موالید وتسییرات وفردارات وسیمیا وغیرہا یہ تو درس میں داخل نہیں طبعیات والٰہیات پڑھائے جاتے ہیں۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتاہوں توفیق اﷲ تعالٰی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع