30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لہ فی العلوم اصلا[1]۔ |
ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد ہیں۔(ت) |
بہت ائمہ کرام نے اس سے اشتغال رکھا بلکہ اس میں تصانیف فرمائیں بلکہ اسفاردینیہ مثل کتب اصول فقہ واصول دین کا مقدمہ بنایا،ردالمحتار میں ہے:
|
اما منطق الاسلامیین الذی مقدماتہ قواعد اسلامیۃ فلاوجہ للقول بحرمتہ بل سماہ الغزالی معیار العلوم وقدالف فیہ علماء الاسلام ومنھم المحقق ابن الھمام فانہ اتی منہ ببیان معظم مطالبہ فی مقدمۃ کتابہ التحریر الاصولی[2]۔ |
اہل اسلام کی منطق کو حرام کہنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس کے مقدمات قواعد اسلامیہ ہیں،بلکہ امام غزالی نے تو معیار العلوم(علوم کے پرکھنے کی کسوٹی)قراردیا ہے اور اس میں علمائے اسلام نے سیکڑوں تصنیفات کی ہیں،انہی میں سے محقق ابن ہمام بھی ہیں انہوں نے اپنی کتاب"التحریر الاصولی" کے مقدمہ میں اس کا ایسا بیان فرمایا جس کے مطالب عظیم ہیں۔(ت) |
ہاں علم آلی سے بقدر آلیت اشتغال چاہئے اس میں منہمك ہوجانے والا سفیہ جاہل اور مقاصد اصلیہ سے محروم وغافل ہے،اسی طرح بہت اجزائے حکمت مثل ریاضی ہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وارثماطیقی وسیاحت ومرایاومناظر وجرثقیل وعلم مثلث کروی ومثلث مسطح وسیاست مدن وتدبیر منزل ومکائد حروب وفراست وطب وتشریح وبیطرہ بیزرہ وعلم زیجات واسطرلاب و آلات رصدیہ ومواقیت ومعادن ونباتات وحیوانات وکائنات الجو وجغرافیہ وغیرہا بھی شریعت مطہرہ سے مضادت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض بلاواسطہ بعض بالواسطہ اموردینیہ میں نافع ومعین اوربعض دیگر دنیا میں بکارآمد ہیں اگرچہ مقاصد اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں تو غُل فضولی و بیہودگی ہے۔
|
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ[3]۔ |
کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ لایعنی امور کو ترك کر دے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع