30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منطق فلاسفہ ودیگر خرافات کا کیا ذکرہے،ولہٰذا حکم شرعی ہے کہ اگر کوئی شخص علمائے شہر کے لئے کچھ وصیت کرجائے تو ان فنون کا جاننے والا ہرگز اس میں داخل نہ ہوگا،
|
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی لاھل العلم بلدۃ کذا فانہ یدخل فیہ اھل الفقہ واھل الحدیث ولا یدخل من یتکلم بالحکمۃ[1] الخ ونقل مثلہ فی شرح الفقہ الاکبر للمتکلمین عن کتب الفتاوٰی لاصحابنا وسمی منھا الظھیریۃ۔ |
فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے روایت ہے اگر کوئی شخص شہر کے اہل علم کے لئے کسی چیز کی وصیت کرجائے تو یقینًا اس میں اہل فقہ اور اہل حدیث داخل ہوں گے لیکن جو علم حکمت میں کلام کرے وہ اس وصیت میں داخل نہیں الخ اور اسی جیسا کلام ہمارے اصحاب کے فتاووں کے حوالے سے "شرح فقہ اکبر"میں متکلمین کے متعلق ذکر کیاگیا ہے ان فتاووں میں سے فتاوٰی ظہیریہ کا خاص نام لیاگیا ہے۔(ت) |
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ قرآن وحدیث سے صدہادلائل اس معنی پر قائم کرسکتاہے کہ مصداق فضائل صرف علوم دینیہ ہیں وبس۔ ان کے سوا کوئی علم شرع کے نزدیك علم،نہ آیات واحادیث میں مراد،اگرچہ عرف ناس میں باعتبار لغت اسے علم کہاکریں ہاں آلات ووسائل کے لئے حکم مقصود کا ہوتاہے مگر اسی وقت تك کہ وہ بقدر توسل وتقصد توسل سیکھے جائیں اس طور پر وہ بھی موردِفضائل ہیں جیسے نماز کے لئے گھر سے جانے والوں کو حدیث میں فرمایا کہ وہ نماز میں ہے جب تك نماز کا انتظار کرتا ہے،نہ یہ کہ انہیں مقصود قراردے لیں اور ان کے توغل میں عمر گزاردیں نحوی لغوی ادیب منطقی کہ انہیں علوم کا ہو رہے اور مقصود اصلی سے کام نہ رکھے زنہار عالم نہیں کہ جس حیثیت کے صدقہ میں انہیں نام ومقام علم حاصل ہوتا جب وہی نہیں تو یہ اپنی حد ذات میں نہ اُن خوبیوں کے مصداق تھے نہ قیامت تك ہوں،ہاں اسے یہ کہیں گے کہ ایك صنعت جانتا ہے جیسے آہنگرونجار،اور فلسفی کے لئے یہ مثال بھی ٹھیك نہیں کہ لوہار بڑھئی کو ان کا فن دین میں ضرر نہیں پہنچاتا،اور فلسفہ تو حرام و مضراسلام ہے،اس میں منہمك رہنے والا اجہل جاہل،اجہل بلکہ اس سے زائد کا مستحق ہے،لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم، ہیہات ہیہات اسے علم سے کیامناسبت،علم وہ ہے جو مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ترکہ ہے،نہ وہ جو کفارِ یونان کا پس خوردہ۔سیّدی عارف باﷲ فاضل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع