30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
جو ان کاموں کو کرنا چاہے،یوں ہی حرام اور کفر یہ الزام جاننا ضروری ہیں، مجھے اپنی زندگی کی قسم اس زمانے میں یہ سب سے زیادہ ضروری امور ہیں۔(ت) |
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں تحت حدیث مسطور فرماتے ہیں:
|
مراد بعلم درینجا علمیست کہ ضروری وقت مسلمان ست مثلًا چوں دراسلام درآمد واجب شد بروئے معرفت صانع تعالٰی و صفات وعلم بہ نبوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و جزآں ازانچہ صحیح نیست ایمان بے آن و چوں وقت نماز آمد واجب شد آموختن علم باحکام صلاۃ وچوں رمضان آمد واجب گردید تعلم احکام صوم [1]الخ۔ |
اس جگہ(یعنی حدیث مذکور میں)علم سے وہ علم مراد ہے جو مسلمان ہونے کے وقت ضروری ہے،مثلًاجب کوئی شخص اسلام لائے تو اس پر اﷲ تعالٰی اور اس کی صفات کی معرفت، یونہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کا علم رکھنا اور اس کے علاوہ وہ اسلامی مسائل کہ جن کو جانے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتا،پھر جب نماز کا وقت آجائے تو مسائل نماز کو سیکھنا ضروری ہے اور جب رمضان شریف آجائے تو احکام روزہ سیکھنے ضروری ہیں الخ(ت) |
غرض اس حدیث میں اسی قدر علم کی نسبت ارشاد ہے،ہاں آیات واحادیث دیگر کہ فضیلت علماء وترغیب علم میں وارد،وہاں ان کے سوا اور علوم کثیرہ بھی مراد ہیں جن کا تعلم فرض کفایہ یا واجب یا مسنون یامستحب،اس کے آگے کوئی درجہ فضیلت وترغیب اور جو ان سے خارج ہو ہرگز آیات واحادیث میں مراد نہیں ہوسکتا،اور ان کاضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃً جیسے فقہ وحدیث وتصوف بے تخلیط،وتفسیر قرآن بے افراط وتفریط خواہ وساطۃً مثلًا نحو وصرف ومعانی بیان کہ فی حدذاتہا امردینی نہیں مگر فہم قرآن وحدیث کے لئے وسیلہ ہیں،اور فقیر غفراﷲ تعالٰی اس کے لئے عمدہ معیار عرض کرتا ہے مراد متکلم جیسے خود اس کے کلام سے ظاہر ہوتی ہے دوسرے کے بیان سے نہیں ہوسکتی۔مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جنہوں نے علم وعلماء کے فضائل عالیہ وجلائل غالیہ ارشاد فرمائے انہیں کی حدیث میں وارد ہے کہ علماء وارث انبیاء کے ہیں انبیاء نے درہم ودینار ترکہ میں نہ چھوڑے،علم اپنا ورثہ چھوڑا جس نے علم پایا اس نے بڑا حصہ پایا،
|
اخرج ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ |
ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع