30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کافر یابدعتی،والعیاذباﷲ تعالٰی۔سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں،پھر علم مسائل نماز یعنی اس کے فرائض وشرائط ومفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کرسکے،پھر جب رمضان آئے تو مسائل صوم،مالك نصاب نامی ہو تو مسائل زکوٰۃ،صاحب استطاعت ہو تو مسائل حج،نکاح کیاچاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلے،تاجر ہو تو مسائل بیع وشراء،مزارع پرمسائل زراعت،موجرومستاجر پر مسائل اجارہ،وعلٰی ھذا القیاس ہر اس شخص پر اس کی حالت موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرض عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائل حلال وحرام کہ ہرفردبشر ان کا محتاج ہے اور مسائل علم قلب یعنی فرائض قلبیہ مثل تواضع واخلاص وتوکل وغیرہا اور ان کے طرق تحصیل اور محرمات باطنیہ تکبر وریا وعُجب وحسد وغیرہا اور اُن کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہرمسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بے نماز فاسق وفاجر ومرتکب کبائر ہے یونہی بعینہ ریاء سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتاہے نسئل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے عفووعافیت کاسوال کرتے ہیں۔ت)تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس۔علامہ مناوی تیسیر میں زیرحدیث مذکور لکھتے ہیں:
|
اراد بہ مالا مندوحۃ لہ عن تعلمہ کمعرفۃ الصانع ونبوۃ رسلہ وکیفیۃ الصّلٰوۃ ونحوھا فان تعلمہ فرض عین[1]۔ |
اس سے وہ علم مراد ہے جس کے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں، جیسے صانع کی پہچان،رسولوں کی نبوت،کیفیت نماز اور اس جیسے دوسرے مسائل کی معرفت،کیونکہ ان باتوں کا سیکھنا فرض عین ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین و ھو بقدر مایحتاج لدینہ[2]۔ |
جان لیجئے! علم سیکھنا اور اسے حاصل کرنا فرض عین ہے،اور اس سے مراد اتنی مقدار ہے کہ جس کی دین میں ضرورت پڑتی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں فصول علامی سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع