30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ایجاب وقبول کانام ہے جس کے لئے ایك پیسہ کی بھی ضرورت شرعًا نہیں،اور اگر غرض ضروری اور بے سوال کسی طریقہ حلال سے دفع ہوسکتی ہے جب بھی سوال حرام،مثلًا کھانے کو کچھ پاس نہیں مگر ہاتھ میں ہنر ہے یا آدمی قوی تندرست قابل مزدوری ہے کہ اپنی صنعت یا اُجرت سے بقدرِ حاجت پیداکرسکتاہے قبل اس کے کہ احتیاج تابحد مخمصہ پہنچے تو اسے سوال حلال نہیں،نہ اسے دینا جائز کہ ایسوں کو دینا انہیں کسبِ حرام کا مؤید ہوتا ہے اگر کوئی نہ دے تو جھَك مار کر آپ ہی محنت مزدوری کریں اور اگر دوسرا طریقہ حلال میسرنہیں حرفت وصنعت کچھ نہیں جانتا نہ محنت ومزدوری پرقادر ہے خواہ بوجہ مرض یا ضعف خلقی یا نازپروردگی یا کسب کرتو سکتا ہے مگرحاجت فوری ہے کسب پرمحول کرنا تاتریاق ازعراق کامضمون ہواجاتا ہے تو سوال حلال ہوگا کہ ہران صورتوں میں کارروائی یوہیں ہوسکتی ہے کہ مانگ کرلے یا چھین کر یا چُرا کر یا کوئی حرام یا مردار کھائے اور سرقہ وغصب کی حرمت سوال سے اشد ہے اور حرام ومردار کی غصب وقہر سے بھی سخت تر،یہ صورتیں تو ظاہر ہیں اور علماء نے بوجہ اشتغال جہاد ومشغولی طلب علم دین،فرصت کسب نہ پانے کو بھی وجوہ معذوری سے شمارفرمایا اور ایسے کے لئے سوال حلال بتایا جب مدار ضرورت غرض وتعین ذریعہ پرٹھہرا تو کچھ اکل وشرب ہی کی تخصیص نہیں کہ جس کے پاس ایك دن کا قوت ہے اسے سوال مطلقًا منع ہو بلکہ اگر دس دن کا کھانا موجود ہے اور کپڑا نہیں یا کپڑا بھی ہے مگر ہلکا کہ جاڑے کی آفت روك سکتا نہیں اور طریقہ تحصیل کوئی دوسرا نہیں کپڑے کے لئے سوال ناروانہیں،یوہیں اگر کھانے پہننے سب کو موجود ہے مگر مدیون ہے تو اگر کچھ مال فاضل رکھا ہے جسے بیچ کر ادا کرے یا کماکر دے سکتاہے تو سوال حرام،اور اگر کمائی سے بعد نفقہ ضروری کے کچھ نہیں بچا سکتا اور قرض خواہ گردن پر چھری رکھے ہوئے ہے تو ادا کے لئے سوال حلال۔
|
فی الدرالمختار لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کالتصحیح المکتسب و یأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولو سأل للکسوۃ او لاشغالہ عن الکسب بالجہاد اوطلب العلم جاز لو محتاجا[1] اھ وفیہ من النفقات تحب |
درمختار میں ہے جائزنہیں اسے سوال جس کے پاس ایك دن کا گزارہ بالفعل یا بالقوۃ ہے جیسا کہ تندرست شخص کمائی کے قابل ہو اور اس کے حال سے آگاہی کے باوجود اس کو دینے والا گنہگار ہوگا حرام پراعانت کی وجہ سے،اگر جسم ڈھانپنے کے لئے یاجہاد میں مصروف ہونے کی وجہ سے کسب نہ کرسکنے یاطلب علم کی مصروفیت میں کسب نہ کرسکنے کی وجہ سے سوال کرے توضرورت یاحاجت مند ہو تو سوال کرنا جائزہے اھ،اسی کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع