30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لمانعی عمل المولد والقیام من تصانیف خاتمۃ المحققین الاماجد سیّدنا الوالد قدس سرّہ الماجد۔ |
عمل المولد والقیام"کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔(ت) |
دونوں کی قوت کم وبیش ہو اس صورت میں اقوی کا اتباع ہوگا،سبب ہو خواہ غرض۔مثلًا مالِ غیر بے اذن لینا حرام ہے اور خوك وخمر کی حرمت اس سے بھی زائد اور سدرمق اور دفع جوع قاتل وعطش مہلك کی فرضیت ان سب سے اقوی ہے لہٰذا حالت مخمصہ میں ان اشیاء کا تناول اسی قدر جس سے ہلاك دفع ہو لازم ہو ا اور جانب غرض کو ترجیح دی گئی اور اگر مضطر کچھ نہیں پاتا مگر یہ کہ کسی انسان کاہاتھ کاٹ کرکھائے تو حلال نہیں اگرچہ اس شخص نے اجازت بھی دی ہو کہ حرمت انسان اس فرض سے اقوی ہے لہٰذا جانب سبب کو ترجیح رہی۔
|
فی الدر الاکل للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام اومیتۃ او مال غیرہ وان ضمنہ فرض،یثاب علیہ بحکم الحدیث ولکن مقدار مایدفع الانسان الھلاك عن نفسہ[1] اھ وفی الشامیۃ عن وجیز الکردری ان قال لہ اٰخر اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار لکرامتہ[2]۔ |
درمختار میں ہے:غذا کے لئے کھانا اور پیاس کی وجہ سے پینا اگرچہ حرام،مردار یا غیرکامال ہو توجب اس کے ضمن میں فرض ہے تو ثواب پائے گا حدیث کے مطابق۔لیکن یہ اس مقدار کے لئے جس قدر سے انسان اپنے کو ہلاکت سے بچاسکے، اھ،اور شامی کے فتاوٰی میں وجیز کردری سے منقول ہے اگر کسی نے دوسرے شخص کو کہا میراہاتھ کاٹ کر کھالو، تو یہ حلال نہیں کیونکہ انسان کا گوشت اضطراری حالت میں بھی مباح نہیں انسانی کرامت کی وجہ سے۔(ت) |
یہ تقریر منیر حفظ رکھنے کی ہے کہ اوّل تا آخر اس تحقیق جمیل وضبط جلیل کے ساتھ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی وباﷲ التوفیق انہیں ضوابط سے دوسرے سوال اعنی مسئلہ سوال کا حکم منکشف ہوسکتاہے جب غرض ضروری نہ ہو تو سوال حرام،مثلًا آج کا کھانے کو موجود ہے توکل کے لئے سوال حلال نہیں کہ کل تك کی زندگی بھی معلوم نہیں کھانے کی ضرورت درکنار۔یوہیں رسومِ شادی کے لئے سوال حرام کہ نکاح شرع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع