30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بھی کسب مطلقًا مورد نہی ہوگا کہ غرض اگرچہ فرض ہے جب ذریعہ مباح سے مل سکتی تھی تو حرام یا مکروہ کی طرف جانا اپنے اختیار سے ہوا اور اس کا الزام لازم آیا اور اگر سبب متعین تھا کہ دوسرا طریقہ قدرت ہی میں نہیں تو اب دو۲ صورتیں ہوں گی:
اوّل: غرض وسبب کی نہی وطلب دونوں ایك ہی مرتبہ میں ہوں مثلًا سبب حرام،غرض فرض سبب مکروہ تحریمی،غرض واجب،سبب میں اساءت،غرض سنت،سبب مکروہ تحریمی غرض واجب سبب میں اساءت،غرض سنت،سبب مکروہ تنزیہی، غرض مستحب اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ نوع واحد میں تفاوت وقوت پر بھی نظرلازم کہ حرام کا ترك فرض ہے اور فرض کا ترك حرام،اور بعض فرض،بعض دیگر سے اعظم وآکد ہوتے ہیں،اور بعض حرام بعض دیگر سے اشنع واشد،تو یہ دیکھاجائے گا کہ مثلًا فرض غرض کے ترك سے جو حرمت لازم آئے گی وہ اس حرمت سے کیا نسبت رکھتی ہے جو اس سبب حرام کے ارتکاب میں ہے جب سب وجوہ سے طرفین میں تساوی قوت ثابت ہو تو حکم کسب میں اتباع سبب یعنی جانبِ نہی کو ترجیح رہے گی،
|
لان اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ولذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا امرتکم بشیئ فأتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ[1] وروی فی الکشف حدیثا لترك ذرۃ مما نھی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلین،قالہ فی الاشباہ [2]ولنا فی المقام تحقیقات نفائس الممنا بکثیر منھا فی ماعلقنا علی کتاب"اذاقۃالاثام |
کیونکہ ممنوعات سے متعلق شرح کا حکم مہتم ہوتا ہے جبکہ مامورات کا اہتمام اس قدر نہیں ہوتا،اسی لئے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت پربجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو۔کشف میں مروی ہے کہ اﷲ تعالٰی کے منع کردہ سے ذرّہ بھربھی بازرہنا جِن وانسان کی عبادت سے افضل ہے،انہوں نے اشباہ میں بیان کیا ہے،ہمارا یہاں کلام نفیس ہے جس کو ہم نے اپنے والدگرامی قدر کی کتاب"اذاقۃ الاثام لمانعی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع