30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کپڑے میں اتنی زیادت کہ انتقالات نماز وغیرہ میں زانو نہ کھلیں،یوہیں صدقہ فطر واضحیہ جبکہ بعد وجوب مال نہ رہا،غرض ہرواجب جس کی تحصیل کومال درکار۔
سنت:جیسے نماز کے لئے عمامہ وجُبّہ و ردا وغیرہا لباس مسنون وتجمل عیدین وجمعہ وبنا وتوسیع و تطیب مساجد وصلہ رحم وہدیہ احباب ومواساءت مساکین وخبرگیری یتامٰی وبیوگان وخدمت مہمانان و امثال ذلك سنن مالیہ یوہیں عطرومشك وسرمہ وشانہ وآئینہ بصداتباع اور کھانے میں تہائی پیٹ کی مقدار تك پہنچنا۔
مستحب:جیسے بنائے سقایہ وسبیل وسراومدارس وپُل وغیرہا۔
|
فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن بعض العلماء فی ذکرمراتب الاکل"مندوب وھو مایعینہ علی تحصیل النوافل وتعلیم العلم وتعلمہ"[1]۔ |
ردالمحتار میں تبیین المحارم کی نقل میں بعض علماء سے منقول ہے کہ کھانا کھانے کے مراتب کئی ہیں جن میں مندوب ومستحب وہ ہے جو نوافل اور تعلیم وتعلم کے لئے معاون بنے۔(ت) |
بلکہ مہمان کے ساتھ پورا پیٹ بھر کرکھانابھی کہ وہ ہاتھ اٹھالینے سے شرماکر بھوکانہ رہے،یوہیں عورت کی سیر خوری اس نیت سے کہ شوہرکے لئے حفظِ جمال کرے،کم خوری لاغری وشکست رنگ وحسن کی موجب نہ ہو۔
|
فی الدر عن الوھبانیۃ وللزوجۃ التسمین لافوق شبعھا اھ [2]قال الشامی قال الطرسوسی فی الزوجۃ ینبغی ان یندب لھا ذٰلك وتکون ماجورۃ،قال الشارح ولا یعجبنی اطلاق اباحۃ ذٰلك فضلا عن ندبہ ولعل ذٰلك محمول علی مااذاکان الزوج یحب السمن والا ینبغی ان تکون |
درمختار میں وہبانیہ سے منقول ہے کہ بیوی کو فربہ بننا مندوب ہے جوکہ سیر ہوکر کھانے سے زائد نہ ہواھ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ طرسوسی نے فرمایا ہے کہ بیوی میں یہ بات مستحب ہے اور وہ اجر پائے گی۔شارح نے فرمایا مجھے اس بات میں اباحت پسند نہیں چہ جائیکہ مستحب ہو،ہوسکتاہے کہ استحباب کامعاملہ اس صورت میں ہو جب خاوند فربہ پن کو پسند کرتاہو،ورنہ مناسب یہ ہے کہ بیوی معتدل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع