30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
چیز کو بازار میں فروخت کرے تومکروہ نہیں بلکہ خلافِ اولٰی ہےاھ ملخصًا۔ (ت) |
مباح:جیسے بن کی لکڑی،جنگل کے شکار،دریا کی مچھلیاں۔
مستحب:جیسے خدمت،اولیاء وعلماء کی نوکری۔
|
وقدکان انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ یخدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی شبع بطنہ[1]۔ |
حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ صرف شکم سیری کے عوض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کرتے تھے۔(ت) |
یونہی ہروقت کسب جس میں امورِخیر پراعانت ہو اگرچہ خیر صرف تقلیل شروخیر ہو مثلًا گھات یاچنگی یابندوبست کی نوکری اس نیت سے کہ بندگانِ خدا کارکنوں کے جبروتعدی وظلم وزیادہ ستائی سے بچیں:
|
فی کفالۃ الدر،النوائب ولوبغیرحق کجبایات زماننا قالوا من قام بتوزیعھا بالعدل اجر[2] اھ ملخصا،وفی شہادات ردالمحتار قدمنا عن البزدوی ان القائم بتوزیع ھذہ النوائب السلطانیۃ والجبایات بالعدل بین المسلمین ماجور وان کان اصلہ ظلما[3] الخ قلت وکذٰلك نص علیہ فی کفایۃ الھدایۃ وغیرھا۔ |
درمختار کے باب کفالہ میں ہے کہ ٹیکس اگرچہ ناحق ہوں ان کو فروخت کرنا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں ہوتا ہے فقہأ کہتے ہیں جو شخص مزدوری پر یہ سرکاری وصولیاں کرے گا اس کو اتنا عوض دیاجائے گااھ ملخصًا،ردالمحتار کے باب الشہادات میں ہے کہ بزدوی سے منقول گزرا ہے سرکاری وصولیاں عدل کے ساتھ اجرت پروصول کرنے پر ثواب ہوگا اگرچہ یہ اصل میں ظلم ہوں الخ۔میں کہتاہوں اسی طرح کفایۃ الہدایہ میں ہے۔(ت) |
سنّت:جیسے احباب کاہدیہ قبول کرنا اور عوض دینا،
|
احمد والبخاری وابوداؤد والترمذی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ |
احمد،بخاری،ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع