30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قدموا رجلا صالحا وکذا الحکم فی الامارۃ والحکومۃ اما الخلافۃ وھی الامامۃ الکبرٰی فلایجوز ان یترکوا الافضل وعلیہ اجماع الامۃ[1]۔ |
نہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے صالح شخص کو امام بنایا ہے اگرچہ غیراولٰی ہے،اور یہی حکم امارت اور حکومت کا ہے لیکن خلافت میں جوامامت کبرٰی ہے یہ جائز نہیں کہ وہ افضل کوترك کریں اور اس پر اجماع امّت ہے(ت) |
اقول:یوہیں ظہرومغرب وعشاء کے فرض پڑھ کر سنتوں سے پہلے بیع وشراء اور ظاہرًا طلوعِ فجر کے بعد نمازصبح سے پہلے خریدوفروخت بھی اسی قبیل سے ہے جبکہ ضرورت داعی نہ ہو یوہیں ہر وہ کسب کہ خلافِ سنت یا اس کا شغل ترك سنت کی طرف مؤدی ہو۔
مکروہ تنزیہی:جیسے بیع عینیہ جبکہ مبیع بائع کے پاس عود نہ کرے،مثلًا جو قرض مانگنے آیا اسے روپیہ نہ دیابلکہ دس کی چیز پندرہ کو اس کے ہاتھ بیچی کہ اس نے دس کو بازار میں بیچ لی،
|
فی الدر المختار شراء الشیئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ویکرہ واقرہ المصنف[2] فی اٰخر الکفالۃ، بیع العینۃ ای بیع العین بالربح نسئۃ لیبیعھا المستقرض باقل لیقضی دینہ،اخترعہ اٰکلۃ الربا وھو مکروہ مذموم شرعالمافیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض[3]،وفی ردالمحتار عن الفتح ان فعلت صورۃ یعود الی البائع جمیع مااخرجہ اوبعضہ یکرہ تحریما فان لم یعد کما اذا باعہ المدیون فی السوق فلاکراھۃ بل خلاف الاولٰی [4]اھ ملخصا۔ |
درمختار میں ہے سستی چیز کو قرض کی ضرورت پر مہنگے داموں خریدنا جائزہے اور مکروہ ہے اس کو مصنّف نے ثابت رکھا ہے، اور انہوں نے باب الکفالہ کے آخر میں بیع عینہ کے متعلق فرمایا یعنی عین چیز کو نفع کے ساتھ ادھار فروخت کرنا تاکہ قرض لینے والا اس کو کم قیمت پرفروخت کرکے حاجت پوری کرے،یہ طریقہ سود خوروں نے ایجاد کیاہے اور یہ مکروہ اور شرعًا مذموم ہے کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی سے اعراض ہے،اور ردالمحتار میں فتح القدیر سے منقول ہے کہ یہ ایسی صورت ہوکہ اس میں بائع کی طرف سے دی ہوئی چیز اس کو کل یا بعض واپس لوٹ آتی ہو اس لئے یہ مکروہ تحریمی ہے اور ایسا نہ ہو مثلًا مقروض اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع